LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 2500 سے زائد پوائنٹس کی کمی امریکہ: میڈیکیڈ میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فراڈ پر ذکیہ خان کو 76 ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار کا سلامتی کونسل سے خطاب نیویارک میں نائن الیون کی 25ویں برسی: میئر زہران ممدانی کی شرکت پر تنازع اور شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی

لاہور ہائیکورٹ کا 39 سال پرانے اراضی کیس پر فیصلہ، تکمیل کا دعویٰ مسترد

Web Desk

11 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے 39 سال پرانے اراضی کے ایک اہم تنازع کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے 1987 میں طے پانے والے معاہدۂ اراضی کی تعمیل کا دعویٰ مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس مزمل اختر شبیر نے میاں انعام الٰہی اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی دوسری اپیل (Second Appeal) پر جاری کیا۔

کیس کے حقائق کے مطابق درخواست گزاروں نے 27 جولائی 1987 کو 199 کنال 9 مرلہ اراضی کی خرید و فروخت کا معاہدہ 10 لاکھ روپے کے عوض طے کیا تھا، جس میں سے 1 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے گئے تھے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ بقایا رقم کی ادائیگی کے بعد رجسٹری ہونا تھی، مگر فریقِ مخالف نے معاہدے کی پابندی نہیں کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ:

  • انکار اور قانونِ تحدیدِ مدت: معاہدے میں تکمیل کے لیے 3 ماہ کی مدت درج تھی مگر کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں تھی۔ اس صورتِ حال میں قانونِ تحدیدِ مدت (Limitation Act) کے آرٹیکل 113 کے تحت 3 سال کی قانونی مدت اس دن سے شروع ہوئی جب فریقِ مخالف نے معاہدے پر عمل درآمد سے انکار کیا۔

  • دعوے میں طویل تاخیر: درخواست گزار کے اپنے گواہ کے مطابق 15 ستمبر 1987 کو سیل ڈیڈ کا مسودہ پیش کیا گیا تھا جس پر ملک محمد اشرف نے اسی دن دستخط سے انکار کر دیا تھا۔ یہی انکار قانونی مدت کے آغاز کی بنیاد بنا، جس کی 3 سالہ معیاد 15 ستمبر 1990 کو ختم ہو چکی تھی، جبکہ دعویٰ 7 سال کی تاخیر سے دسمبر 1997 میں دائر کیا گیا۔

  • قانونی نوٹس کا اثر: 26 نومبر 1997 کو بھیجا گیا قانونی نوٹس کوئی نئی وجۂ دعویٰ (Cause of Action) پیدا نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک بار قانونی معیاد شروع ہو جائے تو بعد کا کوئی واقعہ اسے روک یا دوبارہ شروع نہیں کر سکتا۔

عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان اتنے طویل عرصے تک خاموش رہنے کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کر سکے۔ لہٰذا اپیل میں کوئی قانونی خامی نہ ہونے کی بنیاد پر اسے عدمِ میرٹ پر خارج کر دیا گیا۔