LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

انگلینڈ کے اسپتال موسمِ سرما میں گنجائش سے زائد مریضوں کے دباؤ کا شکار

Web Desk

14 December 2025

انگلینڈ کے اسپتال رواں موسمِ سرما میں شدید اور خطرناک حد تک گنجائش سے زائد مریضوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ این ایچ ایس (NHS) کے تازہ اعداد و شمار اور ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار زیادہ تعداد میں مریض اسپتالوں کے بستروں پر ’’پھنسے‘‘ ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیشنل ہیلتھ سروس کو موسمِ سرما کے روایتی بحران کا قبل از وقت آغاز دیکھنے کو مل رہا ہے، جس میں فلو کے شدید پھیلاؤ (جسے ماہرین نے ’’فلو نامی‘‘ قرار دیا ہے) نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی جانب سے بدھ سے شروع ہونے والی پانچ روزہ ہڑتال بھی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔

ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق رواں موسمِ سرما میں اسپتالوں میں دستیاب بستروں کی تعداد معمول سے کم ہوگی، کیونکہ ’’تاخیر سے ڈسچارج‘‘ کے مسئلے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں قبل از وقت اضافہ ہو چکا ہے۔ تاخیر سے ڈسچارج سے مراد وہ مریض ہیں جو طبی طور پر اسپتال چھوڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن مناسب نگہداشت یا رہائش کی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال میں ہی قیام پر مجبور ہیں۔

سینئر ڈاکٹروں اور این ایچ ایس کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دستیاب بستروں کی کمی اس موسمِ سرما میں پہلے سے ہی ’’انتہائی تشویشناک‘‘ حالات کو مزید بدتر بنا دے گی۔ اس کے نتیجے میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس کے باہر ایمبولینسوں کی لمبی قطاریں، مریضوں کے طویل انتظار، راہداریوں میں علاج (کوریڈور کیئر)، فلو کے پھیلاؤ اور شدید بیمار مریضوں کو بروقت بستر نہ ملنے کے باعث اموات کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں جولائی تا ستمبر 2024 اور 2025 کے دوران تاخیر سے ڈسچارج مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق تاخیر سے ڈسچارج مریضوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بستر دنوں کی شرح 2024 میں 10.1 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 11 فیصد ہو گئی، یعنی 9 فیصد اضافہ یا تقریباً 19 ہزار بستر دنوں کے برابر۔ اس میں سال بہ سال ڈسچارج کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ بھی شامل ہے، جو ماہانہ تقریباً 3,800 مریضوں کے مساوی ہے۔

گزشتہ موسمِ سرما میں این ایچ ایس کے ایک لاکھ جنرل اور ایکیوٹ بستروں میں سے 14 فیصد پر تاخیر سے ڈسچارج مریض قابض رہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں موسمِ سرما میں یہ شرح اور زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انگلینڈ کے اسپتال موسمِ سرما کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال میں ایک بڑے انسانی اور انتظامی بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔