LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے سندھ میں کوئی بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا: مراد علی شاہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا سعودی عرب پر ڈرون حملے ، عراقی وزیراعظم نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا انصاراللہ کی اہم ساحلی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے پر باب المندب میں پٹرولنگ انڈونیشیا کا جزیرہ جاوا 6.2 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا سعودی وزیر خارجہ کا ترک و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورت حال پر گفتگو جی سی سی کی سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید مذمت یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان آرمینیا کے پہلے سفیر مقرر قابض افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت تیز حوثیوں کا یمنی علاقے ذباب اور سٹرٹیجک جزیرے میون پر بھی قبضہ آئل پائپ لائن پر ہونے والا ڈرون حملہ عراق سے کیا گیا تھا، سعودی وزارت خارجہ سعودی عرب نے حالیہ حملوں کے بعد اہم آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی امریکا بنیادی ضروریات چھین کر ایرانی عوام کو سرنڈر پر مجبور نہیں کر سکتا، ایرانی صدر ایران، عراق اور خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز پر بات چیت کرنے کا فیصلہ

کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم

Web Desk

11 September 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے کاروباری برادری کی سہولت اور ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی اور تجارتی عمل کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے تجارتی طریقہ کار میں حائل تاخیر کے خاتمے، کاروباری لاگت میں کمی اور قومی بندرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کو ‘ون ونڈو’ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے تجارتی عمل کو تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بڑھانے، نان ٹیرف اقدامات کے جامع آڈٹ اور پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست شپنگ لائنز لانے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو خصوصی ریلیف دینے کا حکم دیا گیا۔ وزیراعظم نے تمام بندرگاہوں کے لیے ‘ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم’ کے اہداف منظور کیے، جس کے تحت رواں مالی سال کے اختتام تک پری ارائیول کلیئرنس 30 فیصد، گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانا اور مجاز اقتصادی آپریٹرز (AEOs) کی تعداد 50 سے زائد کرنا شامل ہے۔ نیز نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے قائم ورکنگ گروپ کو ایک ماہ کے اندر روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔