LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست مسترد گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام پاکستانی بلیو اکانومی میں پیشرفت: سی فوڈز برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر سعودی عرب کی جانب سے ایران کو حوثی باغیوں کو لگام دینے کا پیغام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم پیش رفت، 351 ارب روپے کے قرضے منظور ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا

سعودی عرب کی جانب سے ایران کو حوثی باغیوں کو لگام دینے کا پیغام

Web Desk

10 September 2026

بین الاقوامی خبر رساں ادارے (برطانوی خبر ایجنسی) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حالیہ تباہ کن حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کا ایک اہم انتباہی پیغام ایران تک پہنچایا ہے، جس میں تہران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو فوری طور پر کنٹرول کرے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے میان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے پس منظر میں پاکستان کا یہ اقدام علاقائی سیکیورٹی اور سفارت کاری میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے ایران پر واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کو لگام دے، ورنہ اس پراکسی تنازع کے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی بحران میں تبدیل ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

پاکستانی ذرائع اور سینیئر علاقائی سفارت کار کے مطابق اسلام آباد اور انقرہ کے سینیئر عسکری نمائندوں نے ریاض میں سعودی حکام سے اہم ملاقات کی، جس میں مشترکہ ردِعمل کو مربوط بنانے پر مشاورت کی گئی۔ تاہم، تینوں ممالک نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ ان کی افواج یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی نوعیت کی دفاعی یا جوابی کارروائی صرف سعودی حدود تک ہی محدود رہے گی۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کا دفاعی معاہدہ ہے، جس کے تحت پاکستانی فورسز سعودی سرزمین کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں لیکن کسی غیر ملکی سرزمین پر جنگی آپریشنز کا حصہ نہیں بنیں گی۔ یاد رہے کہ منگل کے روز حوثیوں نے خمیس مشیط میں ایئربیس اور قریبی تیل تنصیبات پر شدید حملہ کیا تھا، جس میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔