پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی
Web Desk
10 September 2026
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے ‘کیش لیس اکانومی’ ایجنڈے اور معاشی اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والے صارفین کی تعداد 20 لاکھ سے تجاور کر گئی ہے۔
اس بات کا انکشاف وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت فاؤنڈیشن کی صنفی مساوات ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی کر رہی تھیں۔ ملاقات کے دوران ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی، مالیاتی شمولیت اور کیش لیس اکانومی پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ہدف کی تکمیلی: وزیر مملکت خزانہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، اور حکومت نے جون 2026 تک مقررہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔
راست کیو آر (RAAST QR) کی حوصلہ افزائی: حکومت نے ‘راست’ کیو آر کوڈز کے فروغ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو عام کرنے کے لیے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جس سے چھوٹے کاروباری اور عام صارفین میں ڈیجیٹل نظام کا استعمال تیزی سے بڑھا۔
شفافیت اور ڈاکومینٹیشن: معیشت کو دستاویز بنانے (ڈاکومینٹیشن)، مالیاتی شمولیت اور سرکاری ادائیگیوں میں شفافیت اور کارکردگی لانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کا تعاون: گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے ‘کیش لیس پاکستان’ ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور ‘کرانداز’ (Karandaaz) کے ذریعے تعاون کو مزید بڑھانے کا یقین دلایا۔
متعلقہ عنوانات
قطر نے ایران امریکا تنازع ختم کرانے کیلئے نیا سفارتی فارمولا پیش کر دیا
7 November 2026
پاکستان نے 23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا
7 November 2026
ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں کی نگرانی کیلئے امریکی ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم
7 November 2026
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری
7 November 2026
7 November 2026
آبنائے ہرمز کے مشرق میں ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا: ایرانی بحریہ
7 November 2026
آزاد کشمیر کے سابق صدر راجہ ذوالقرنین انتقال کر گئے، ایک روزہ سوگ کا اعلان
7 November 2026
حکومت اپنے اقدامات سے خود نفرت پیدا کر رہی ہے، وفاداری کا معیار اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے: مولانا فضل الرحمٰن
7 November 2026