LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حراستی تشدد و ہلاکت کیس: ایف آئی اے نے 5 پولیس اہلکار گرفتار کر لیے صدر مملکت لندن کا دورہ مکمل کرکے پاکستان کے لیے روانہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا 10 روز میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ایک فٹ رہ گئی پراسیکیوشن پنجاب اور ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا مشترکہ اقدامات مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ شہباز شریف سے وزیراعظم آزاد کشمیر کی ملاقات، امن ، ترقی اور فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال ایران کی آئل ٹینکرز پر امریکی حملے کی شدید مذمت سعودی عرب کی ایران کی جانب سے اردن پر حملوں کی شدید مذمت جاپانی شہر ناگویا میں طوفانی بارش، سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں برطانوی وزیراعظم کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا دفاع ایم ایل ون منصوبے کے ڈیزائن کو اکتوبر میں حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائیگی: اے ڈی بی پاکستان اور اے ڈی بی کا ایم ایل ون منصوبے کے ڈیزائن کی بروقت تکمیل پر اتفاق سینیٹ کمیٹی اجلاس میں ایمل ولی اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال بے اثر

کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم

Web Desk

9 September 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ‘ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28’ کے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) اور ہاؤسنگ سیٹکر کو قرضوں کی فراہمی میں متحرک کردار ادا کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کسانوں کو آسان اور بلا رکاوٹ مالی وسائل کی فراہمی قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ‘وزیراعظم اپنا گھر’ پروگرام کے تحت بینکنگ قرضہ جات کے لیے جائیدادوں کا جامع سروے کرنے کی ہدایت دی تاکہ کم اور متوسط آمدن والے طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

اجلاس کے دوران دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ‘وزیراعظم اپنا گھر’ پروگرام کے تحت اب تک 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 313 ارب 42 کروڑ روپے مالیت کی 53,127 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں اور 8,739 افراد کو 45 ارب 43 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، اگست 2026 تک زرعی شعبے کو 1 کھرب 26 ارب 80 کروڑ روپے کے قرضے دیے گئے ہیں جبکہ جون 2028 تک یہ ہدف 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح، ایس ایم ای (SME) سیکٹر کے لیے بھی جون 2028 تک 2 کھرب روپے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ‘زرخیز’ ایپ کے ذریعے کسانوں کو 1 ارب 96 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ پلاٹوں کی رہن سازی کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز اسلام آباد سے کیا جائے گا۔