LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کی اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا: ایرانی نائب صدر شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس روک نہیں سکتی: محسن نقوی سانحہ گل پلازا: پولیس کا چالان عدالت میں جمع، ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں: خواجہ سعد رفیق سیف گیمز 2027 کی تاریخیں مقرر، 28 کھیلوں میں 6 ہزار سے زائد کھلاڑی و آفیشلز شریک ہوں گے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، روٹی 10 روپے کی ہو: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس مشرقِ وسطیٰ کے عوام بیرونی مداخلت مسترد کر دیں: چینی صدر نائیجیریا میں پیٹرول چوری کے دوران زہریلی گیس سے 37 افراد ہلاک محکمہ موسمیات کی بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں شدید بارش کی پیشگوئی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور سفارت کاری عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے: رضوان سعید خواجہ آصف کی نئے صوبوں و انتظامی یونٹس پر پیپلز پارٹی کے دوہرے معیار پر تنقید امریکہ: غیر ملکی سرکار کے ملازمین کے بچوں کے لیے گرین کارڈ کے قواعد میں بڑی تبدیلی حکومت نے پی ٹی آئی کو دیوار سے لگا دیا، ملک میں بڑے سسٹمک ری سیٹ کی ضرورت ہے: اسد عمر اور فواد چوہدری امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں

Web Desk

5 September 2026

بشکیک: کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا، جس نے عالمی سیاست میں تنظیم کی مرکزی حیثیت اور کثیر قطبی نظام کو مزید واضح کر دیا ہے۔

اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سفارتی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ایس سی او ممالک میں دنیا کی نصف آبادی آباد ہے اور یہ عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے زائد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ روس اور ایس سی او ممالک کے درمیان تجارت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ باہمی لین دین میں 98 فیصد قومی کرنسیوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے خاتمے، ایران کی خودمختاری کی حمایت اور پرامن افغانستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں علاقائی رابطوں اور معاشی تعاون کے ساتھ پانی کے تنازع کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی خطے کی لائف لائن ہے اور اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی، تاہم ان کی موجودگی میں یہ موقف سفارتی لحاظ سے اہم رہا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے 2027 کے ایس سی او پلس اجلاس کی میزبانی اور روڈ میپ کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کے حاشیے میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پوتن کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی، جبکہ مارچ میں ملتوی ہونے والا دورۂ ماسکو اب سال کے آخر میں متوقع ہے جس میں 2030 تک کے اقتصادی روڈمیپ پر پیش رفت ہوگی۔