آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں: خواجہ سعد رفیق
Web Desk
5 September 2026
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک کی سیاسی اور آئینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی رٹ قائم کرنے کی کوششوں میں شہریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کو سلب نہیں کیا جانا چاہیے۔
قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ ملک اس وقت ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے آگے کا راستہ واضح دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مارشل لا لگائے گئے، جبکہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں وراثتی جاگیر بن چکی ہیں، جس کے باعث حقیقی جمہوریت کی پنپنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بلوچستان اور آزاد کشمیر کی انتظامی و امن و امان کی نازک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہوتا ہے تو نظام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے نئے صوبوں کی تشکیل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی پامالی اور جمہوری عدم استحکام کی موجودگی میں جتنے بھی چھوٹے صوبے بنا لیے جائیں، ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ پہلے شفاف اور نمائندہ پارلیمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کے بعد صوبوں کی ساخت پر سوچ بچار ہو۔ انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کو پارلیمانی آمریت میں بدلنے کے عمل کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
متعلقہ عنوانات
امریکا کی اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا: ایرانی نائب صدر
5 September 2026
زمان پارک کے باہر پولیس پر حملہ کیس، فلک جاوید کی ضمانت منظور
5 September 2026
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں
5 September 2026
کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس روک نہیں سکتی: محسن نقوی
5 September 2026
سانحہ گل پلازا: پولیس کا چالان عدالت میں جمع، ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار
5 September 2026
سیف گیمز 2027 کی تاریخیں مقرر، 28 کھیلوں میں 6 ہزار سے زائد کھلاڑی و آفیشلز شریک ہوں گے
5 September 2026
پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، روٹی 10 روپے کی ہو: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس
5 September 2026
مشرقِ وسطیٰ کے عوام بیرونی مداخلت مسترد کر دیں: چینی صدر
5 September 2026