LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل مہنگا کر دیا گیا بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، فی یونٹ 2 روپے 6 پیسے مہنگا امریکی معیشت مضبوط، روزگار میں اضافہ ہوا، اب شرح سود کم کی جائے: ٹرمپ ظلم کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کارکن ڈٹے ہوئے ہیں: سہیل آفریدی جے ڈی وینس کا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ بھارت میں طوفانی بارشیں، دہلی ایئرپورٹ میں پانی داخل، ریڈ الرٹ جاری اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور آئندہ ترجیحات کا جائزہ نیویارک میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ: این وائی پی ڈی کی جانب سے سب سے محفوظ ترین موسمِ گرما کے دعوے کے باوجود اعداد و شمار جاری قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس: قانون سازی میں عدم شرکت کے پارٹی فیصلے کے باعث جی آئی ڈی سی اور گیس سرچارج بل موخر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا: وزیراعظم گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے: وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری

سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا

Web Desk

3 September 2026

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی پیش کردہ تحریک التوا پر چار روز کی بحث کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے فورم یا شہر میں بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا اور قومی اسمبلی سمیت تمام اداروں کو واضح ہونا چاہیے کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنا بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مصطفیٰ کمال نئے انتظامی یونٹس کا مطالبات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے ارکان اسمبلی میں کہتے ہیں کہ سندھ نہیں ٹوٹنا چاہیے، جو ان کے دوغلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ محض آبادی کو نئے صوبوں کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، تاہم بہتر گورننس کے لیے انتظامی اصلاحات، نئے اضلاع کے قیام اور بلدیاتی اداروں کو مزید بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی جا سکتی ہے