LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ اسمبلیوں نے کرنا ہے: شرجیل میمن ہوسٹن کاپاک و ہند رینسٹورنٹ ’آگاز‘ دنیا بھر میں اوبر ایٹس پر پہلے نمبر پر آ گیا آئرلینڈ کی سفیر کی صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے ملاقات یوکرین میں امن معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے: صدر پوتن وزیراعظم کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین سوشل میڈیا پر سائبر سکیورٹی سے متعلق نوٹیفکیشن جعلی اور گمراہ کن ہے: پی ٹی اے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ، مجموعی ذخائر 22 ارب 52 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے حکومت نے دھرنے موخر کرنیکا کہا، دھرنے بھی چلیں گے اور مذاکرات بھی: حافظ نعیم الرحمٰن ایرانی فوج کا یو اے ای اور کویت میں امریکی اڈوں پر نئے حملوں کا دعویٰ انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کے لیے امریکی امپیکٹ ایوارڈ سیرت النبیؐ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے، عطا تارڑ عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: عدالت کا فریقین کو عدالتی تقدس برقرار رکھنے کا حکم

روس کا دورِ مشرق ایشیا پیسیفک کے ساتھ تعاون کا اہم مرکز بنے گا: صدر پوتن

Web Desk

3 September 2026

ولادی ووستوک میں منعقدہ 11ویں ایسٹرن اکنامک فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ روس کے دورِ مشرق (Far East) اور آرکٹک خطے کی ترقی اب ایک نئے معاشی دور میں داخل ہو رہی ہے۔ صدر پوتن نے واضح کیا کہ یکم جنوری 2027 سے ان خطوں میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک متحد ترجیحی نظام لاگو کیا جائے گا جس کا مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ اور سرمایہ کاروں کو مراعات کی آسان فراہمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 سالوں کے دوران اس خطے میں 25 ٹریلین روبل کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، خطے کی مجموعی پیداوار تین گنا بڑھی ہے اور بے روزگاری گھٹ کر تاریخی کم ترین سطح 2.2 فیصد پر آ گئی ہے۔

صدر پوتن نے زور دیا کہ ان علاقوں میں قدرتی وسائل کی صرف برآمد کے بجائے مقامی سطح پر پراسیسنگ اور صنعتی زنجیریں (Production Chains) قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، یکم جنوری 2027 سے ڈرون اور بغیر پائلٹ ٹرانسپورٹ کے لیے خصوصی قانونی نظام کا نفاذ اور 2030 تک تمام علاقائی مراکز کو کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورک سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شمالی سمندری راستے (Northern Sea Route) کے ذریعے مال برداری کو رواں دہائی کے اختتام تک 70 ملین ٹن تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے ایشیا پیسیفک خطے بشمول چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا۔ اس عالمی فورم میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور چین کے نائب وزیراعظم سمیت متعدد بین الاقوامی رہنماؤں نے شرکت کی۔