LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک مریم نواز کا نیپال میں سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس

اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر پرویز رشید نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی اشرافیہ، ججوں، سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کروانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، تاکہ سرکاری ہسپتالوں کے معیار میں بہتری لائی جا سکے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے پمز (PIMS) ہسپتال کے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے المیے پاکستان میں روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی انکوائریاں ہوئیں اور سزائیں دی گئیں، لیکن محض تحقیقات سے بنیادی نظام میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ ایک ایسا قانون وضع کرے جس کے تحت تمام سرکاری عہدیداروں، ججوں، سینیٹرز اور بیوروکریٹس کے لیے صرف سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانا لازمی قرار دیا جائے، اور جو شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرے اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پابندی کے بعد چند ہی ماہ میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو جائے گا۔

سینیٹر پرویز رشید نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں (CMH) کی تعریف اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ وہاں فوج کے نچلے عملے سے لے کر اعلیٰ افسران تک تمام لوگ ایک ہی نظام سے علاج کرواتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ حاصل کرنے والے تمام افراد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال لازمی بنایا جائے تاکہ ملک کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔