LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی کا بل بورڈ: نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی تصویر ایران اور حزب اللہ رہنماؤں کے ساتھ لگا دی نیویارک سٹی ہال میں یومِ آزادی پاکستان کی پر وقار تقریب: پاکستانی برادری کی خدمات کا اعتراف ہیمپسٹڈ ٹاؤن شپ میں پاکستانی یومِ آزادی کی رنگا رنگ تقریب، کمیونٹی کی بھرپور شرکت امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہوئے: فرزانے صادق عمان کیساتھ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے نقشے سے متعلق مفاہمت طے پا گئی: ایران ایران کیساتھ جنگ: امریکی صدر کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی امریکی خاندان ٹرمپ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں: علی اکبر ولایتی ایران کا امریکا سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر جارحانہ مؤقف اپنانے کا فیصلہ امریکا، ایران کے مذاکرات کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے: جیرڈ کشنر ایران نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر روک لیا ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 64 تجارتی جہازوں کا رُخ موڑ دیا: سینٹ کام عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے پیشکش کا جواب دیدیا: امریکی صدر libya-coast-migrant-boat-tragedy-50-rescued-7-dead-emergency-rescue لیبیا کے ساحل کے قریب امدادی جہاز نے 50 تارکین وطن کو بچا لیا، 7 ہلاک

افغانستان میں 2 کروڑ 90 لاکھ افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہیں: دی ٹیلیگراف

Web Desk

17 August 2026

برطانوی جریدے ‘دی ٹیلی گراف’ نے اپنی رپورٹ میں طالبان رجیم کے پانچ سالہ دورِ حکمرانی میں افغانستان کی ابتر زمینی صورتحال اور عوامی مشکلات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں طالبان اقتدار کا جشن منا رہے ہیں، وہیں افغان عوام بھوک، بے روزگاری اور شدید غربت میں مبتلا ہیں۔ اب تک 34 لاکھ افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ روزگار کی تلاش میں ایران جانے والے متعدد افغان صحرائی راستوں میں گرمی اور پیاس سے جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد انسانی امداد کے منتظر ہیں اور 2 کروڑ 90 لاکھ افغان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مزید برآں، خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم و روزگار کی سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث یونیسکو کے مطابق 24 لاکھ لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔