LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی

سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم

Web Desk

16 August 2026

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی مرکزی قیادت نے کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں آبادی کے لحاظ سے نئے انتظامی صوبوں کے قیام کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نئے صوبے بنانے کا سب سے مضبوط اور طاقتور مقدمہ صوبہ سندھ کا ہے۔ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جبکہ آئین کے 1973ء کے فریم ورک (جس کی گنجائش ذوالفقار علی بھٹو نے بھی رکھی تھی) کے تحت نئے انتظامی یونٹس بنانا آئینی حق ہے۔ انہوں نے سندھ کے عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس اہم مسئلے پر کھلے ڈائیلاگ کی دعوت دی۔

پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے انتظامی، معاشی اور آئینی نقطہ نظر سے اپنے مطالبات کو اجاگر کیا:

  • خالد مقبول صدیقی: نئے صوبوں کا مطالبہ کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان اور بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں کی ضرورت ہے۔ ہجرت کرنے والوں اور سندھ کے بنیادی شہریوں کے باہمی احترام کو تسلیم کرتے ہوئے محروم طبقات کی نمائندگی کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اس معاملے پر غوور کا آغاز ہو چکا ہے۔

  • ڈاکٹر مصطفیٰ کمال: سندھ کو 18 سالوں میں 22 ہزار ارب روپے ملنے کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نئے صوبے بننے سے کسی کی زمین کم نہیں ہوگی بلکہ سندھ کے ہاریوں اور عام عوام کو مقامی سطح پر بااختیار حکومتیں ملیں گی۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے دوران بلدیاتی اختیارات پر پیپلز پارٹی کی جانب سے مبینہ رکاوٹ ڈالنے پر بھی تنقید کی۔

  • ڈاکٹر فاروق ستار: کراچی پاکستان کو 60 فیصد ٹیکس ریونیو اور 55 فیصد برآمدات فراہم کرتا ہے، مگر بدترین حکمرانی کا شکار ہے۔ بہتر حکمرانی، کرپشن کے خاتمے اور محرومیاں دور کرنے کے لیے مزید انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے ورنہ اسٹیٹس کو ملکی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔