LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی اور ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات ، غیر قانونی امیگریشن روکنے کیلئے تعاون پر اتفاق وزیر داخلہ بلوچستان کے قافلے پر مستونگ میں حملہ، 6 پولیس اہلکار زخمی ہمارے مفادات اور تقدیریں پہلے سے زیادہ جڑی ہیں: ایرانی صدر کا یوم آزادی پر پیغام روس اور پاکستان کے تعلقات کامیابی کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں: ولادیمیر پوتن لاہور ہائیکورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پرچم لہرایا سپریم کورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے قومی پرچم لہرایا بھارت نے مقبوضہ وادی میں تمام اختیارات ایک لیفٹیننٹ گورنر کو دیئے ہوئے ہیں: چیف جسٹس آزاد کشمیر آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول، امریکی اعلانات حقیقت نہیں: ایرانی کمانڈر حکومتی ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ پیٹرولیم لیوی وصول گوگل کا یومِ آزادی پر پاکستان کو خوبصورت ڈوڈل کے ذریعے خراجِ تحسین پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل اور مؤثر نظام موجود ہے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت صدر آزاد کشمیر کا کشمیریوں کی جدوجہد اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت 14 اگست محض جشن کا دن نہیں بلکہ اپنے قومی عہد کی تجدید کا دن ہے، سہیل آفریدی صدر نے وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی متعدد سمریوں کی منظوری دے دی امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدی ڈرونز پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

لاہور ہائیکورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پرچم لہرایا

Web Desk

14 August 2026

لاہور ہائیکورٹ میں 79ویں جشنِ آزادی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ کی تاریخی عمارت پر قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر اور سلامی پیش کی۔ تقریب میں ہائیکورٹ کے دیگر معزز جج صاحبان، بشمول جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس سید شہباز علی رضوی، جسٹس چودھری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس سید فرہاد علی شاہ، رجسٹرار راجہ قمر الزمان، عدالتی افسران اور ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پرچم کشائی کے بعد اپنے خصوصی خطاب میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وطن سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کے وژن کے مطابق ملک کو مضبوط اور باوقار بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ پنجاب کی عدلیہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیر التواء مقدمات ایک بڑا چیلنج تھے، تاہم لاہور ہائیکورٹ نے سال 2025ء کے دوران تاریخی طور پر 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، جبکہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ نے گزشتہ دو سالوں کے دوران 80 لاکھ سے زائد مقدمات نمٹائے۔ انہوں نے ججوں اور سٹاف کی شبانہ روز محنت اور ماڈل کورٹس کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ آئین کے مطابق اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کی جاتی رہیں گی۔ تقریب کا اختتام ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کی خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔