LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی اور ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات ، غیر قانونی امیگریشن روکنے کیلئے تعاون پر اتفاق وزیر داخلہ بلوچستان کے قافلے پر مستونگ میں حملہ، 6 پولیس اہلکار زخمی ہمارے مفادات اور تقدیریں پہلے سے زیادہ جڑی ہیں: ایرانی صدر کا یوم آزادی پر پیغام روس اور پاکستان کے تعلقات کامیابی کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں: ولادیمیر پوتن لاہور ہائیکورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پرچم لہرایا سپریم کورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے قومی پرچم لہرایا بھارت نے مقبوضہ وادی میں تمام اختیارات ایک لیفٹیننٹ گورنر کو دیئے ہوئے ہیں: چیف جسٹس آزاد کشمیر آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول، امریکی اعلانات حقیقت نہیں: ایرانی کمانڈر حکومتی ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ پیٹرولیم لیوی وصول گوگل کا یومِ آزادی پر پاکستان کو خوبصورت ڈوڈل کے ذریعے خراجِ تحسین پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل اور مؤثر نظام موجود ہے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت صدر آزاد کشمیر کا کشمیریوں کی جدوجہد اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت 14 اگست محض جشن کا دن نہیں بلکہ اپنے قومی عہد کی تجدید کا دن ہے، سہیل آفریدی صدر نے وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی متعدد سمریوں کی منظوری دے دی امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدی ڈرونز پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

افغان طالبان کی مسلسل حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے بڑھ گئے: اقوام متحدہ

Web Desk

13 August 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مسلسل حمایت نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد اور ان کی ہلاکت خیزی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 کے عرصے کا احاطہ کرنے والی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت کی دوہری حکمتِ عملی کے تحت ٹی ٹی پی کو نظریاتی و لاجسٹک حمایت اور پناہ گاہیں میسر ہیں، جبکہ جنگجوؤں کی افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقلی سے اس کا بنیادی ڈھانچہ ختم نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے “ایئر فورس” کے قیام سمیت اپنے تنظیمی ڈھانچے کو بلوچستان، کشمیر اور گلگت تک وسعت دی ہے۔ علاوہ ازیں، رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان مشترکہ تربیت، سہولت کاری اور لاجسٹک نیٹ ورکس کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے عملی روابط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔