LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار سعودی عرب پر حملہ: عراقی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے پر آپشنز محدود ہیں: امریکی میڈیا نائجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 30 افراد ہلاک، متعدد مکان نذر آتش

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبے بنانے کی مشروط حمایت کردی

Web Desk

9 December 2025

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ سے دو آئینی ترامیم ہی کافی ہیں، مزید ترامیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے پہلے وہاں قدم اٹھایا جائے جہاں اتفاقِ رائے پہلے سے موجود ہے۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں بلاول نے کہا کہ پنجاب کی تقسیم کا تصور بھی نہیں کر سکتے، البتہ جنوبی پنجاب کے صوبے پر سینیٹ کی کمیشن رپورٹ موجود ہے اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی پہلے ہی اس حوالے سے قرارداد منظور کر چکی ہے، لہٰذا عملی پیش رفت اسی سے شروع ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام پر قانون سازی کی گئی، اگر سندھ میں ایسا ہوتا تو شدید ردعمل آتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کو پنجاب میں اُن کا آنا ہضم نہیں ہوتا، لیکن وہ خود دوسروں کو سندھ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ حکومت سازی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں وزارتیں نہیں لیں گے اور اتحادیوں کو بھی اپنی سیاسی گنجائش بنانی پڑتی ہے۔

پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ آئین کوئی ایسی کتاب نہیں جسے بار بار تبدیل کیا جائے، مفاہمت ہی سیاست کا بہتر راستہ ہے۔ مخالفانہ ماحول میں رہ کر مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں مگر ان کا طریقہ کار غلط ہے، اور جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی وہ ناکام ثابت ہوئی۔

نواز شریف سے ملاقات کے سوال پر بلاول نے بتایا کہ وہ کوٹ لکھپت گئے تھے، مگر باہر آتے ہی ایک جلسے میں ان پر سیاسی حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی مفاہمت کیلئے قدم بڑھاتی ہے، بعض قوتیں حالات خراب کردیتی ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کے سوال پر بلاول نے کانوں کو ہاتھ لگا کر بات ٹال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گورنر کے اختیارات محدود ہیں لیکن سلیم حیدر اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں اچھا کام کر رہی ہیں۔