LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری

Web Desk

8 December 2025

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی،وزیراعظم نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو ختم کرنے کے لیے جامع منصوبہ پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلا تعطل، مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔ سو میگا واٹ سولر پراجیکٹ سے گلگت بلتستان میں ماحولیاتی اعتبار سےصاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں سو میگا واٹ کے سولر پراجیکٹ پر فوری عمل درامد شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی، وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بجلی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے احسن اقبال کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی اور وزرات توانائی کی سفارشات اور اقدامات قابل تحسین ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تیار کردہ جامع حکمت عملی میں شامل فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی پراجیکٹس پر وزارت توانائی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ملکی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں ترقی کو یقینی طور پر بڑھانے کا سبب بنے گی۔ صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں قائم کردہ صنعتوں کے لئے بجلی کی فراہمی کو علاقائی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے۔بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور دیگر سہولیات سے گوادر کی بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ اور مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔وفاقی وزیر برائےتوانائی نے بریفنگ میں بتایا کہ گوادر میں وزارت توانائی کی طرف سے فوری اقدامات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کو 42 فیصد پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل ختم کرنے کے بعد، آئندہ چھ ماہ میں گوادر میں فراہم کردہ بجلی کی وولٹیج کو مستحکم کرنے کے لیے بھی جامع پلان ترتیب دیا جا چکا ہے۔گوادر میں گھریلو اور کاروباری صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اور مفید اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قلیل مدتی پراجیکٹس میں آئندہ آٹھ سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.7 میگا واٹ کی سولر کپیسٹی نصب کی جائے گی۔بریفنگ میں کہا گیا کہ گوادرکے طویل مدتی پراجیکٹس میں 40 میگا واٹ کا منصوبہ مستحکم بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے نصب کیا جائے گا۔ گوادر میں جاری صنعتی اور معاشی ترقی، گوادر کی بندرگاہ اور شہری علاقوں میں توسیع کے باعث آئندہ سالوں میں بجلی کی طلب میں 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی