LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی جماعت کو کشمیر کی شناخت کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواجہ سعد رفیق حافظ طاہر اشرفی کا امیرالعظیم کے انتقال پر اظہار افسوس، ناقابل تلافی نقصان قرار دیدیا پٹرول مزید 6 روپے 39 پیسے، ڈیزل 7 روپے 83 پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں 24 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ؛ دریائے چناب پر اونچے درجے کا طوفان پاکستان جدید ٹیکنالوجی میں صفِ اول کی قوم بننے کی جانب گامزن ہے: شہباز شریف اسرائیلی انخلا کے بغیر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ممکن نہیں، لبنانی صدر اسحاق ڈار کی یورپی یونین نمائندہ سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران کا اردن میں فوجی اڈوں پر میزائل و ڈرون حملوں کا دعویٰ وزیراعظم نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو ملکی معیشت کیلئے اہم سنگ میل قرار دے دیا آزاد کشمیر کا مستقبل الیکشن سے جڑا، عوام دو تہائی اکثریت دلوائیں تو آئینی ترمیم لائیں گے: بلاول سانحہ گل پلازہ: عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کی درخواست مسترد، سندھ انفارمیشن کمیشن کا تحریری فیصلہ جاری امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو حوثیوں کی سعودیہ کو دھمکیاں قابل مذمت، تجارت کو نشانہ بنانا قومی سلامتی پر حملہ تصور ہوگا: پاکستان امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو تارکین وطن کے ورک پرمٹ منسوخ کرنے سے روک دیا

ایرانی وزیر داخلہ کا پاکستان مونومنٹ کا دورہ، یادگارِ شہداء پر حاضری

Web Desk

21 July 2026

ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری (FC) کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہدائے پاکستان کی قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دورے کے دوران انہیں پاکستان مونومنٹ کی تاریخی اہمیت پر بریفنگ دی گئی جبکہ انہوں نے شکر پڑیاں سے وفاقی دارالحکومت کے مناظر کا مشاہدہ بھی کیا۔ اس موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا اور ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔