LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا سکیورٹی خدشات، ٹرمپ کے گالف کلب میں فضائی دفاعی نظام تعینات ٹاؤن شپ واقعہ: دونوں خواتین پر تشدد ثابت نہیں ہوا: سی سی پی او لاہور حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان رواں سال کا مکمل سورج گرہن کب ہو گا اور کس ملک میں نظر آئے گا شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر فوڈ سکیورٹی کو سرپلس چینی برآمد کیلئے تیسرا خط اسحاق ڈار کی انڈونیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ایران پر اقتصادی دباؤ جاری، سخت کارروائی بھی آپشن ہے، ٹرمپ روس شمالی کوریا کی مدد کے بغیر مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا: زیلنسکی کا دعویٰ ایران کا ستمبر کے آخر تک 95 ملین مکعب میٹر گیس پروڈکشن سائیکل میں شامل کرنے کا منصوبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سینیگال کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو سلمان اکرم راجہ کا مال روڈ واقعہ کے دہشتگرد سے اظہار لاتعلقی قطر میں ایران اور عمان کے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل، آبنائے ہرمز کھولنے پر زور راولپنڈی واقعے کی شدید مذمت، پی ٹی آئی کا دہشت گردی یا انتشار سے کوئی تعلق نہیں: بیرسٹر گوہر ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں مبینہ اربوں کی ٹیکس چوری، اعلیٰ سطح کمیٹی قائم

یورپ یوکرین تنازع کے حل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے: روسی وزیرخارجہ

Web Desk

15 July 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک اب بھی یوکرین تنازع کے پرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور وہ روس و امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ چاڈ کے وزیر خارجہ عبداللہ صابر فضول کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ الاسکا میں روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ختم ہو چکے ہیں، بلکہ یورپی ممالک اور یوکرینی قیادت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کا مقصد ان معاہدوں کو ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں کی جانے والی کارروائیوں کو ’’خالص دہشت گردی اور قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد کوئی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ صرف نقصان پہنچانا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے، جس کے خلاف صدر ولادیمیر پیوٹن کی قیادت میں روس مسلسل دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ یوکرین کی بغیر پائلٹ بحری گاڑیوں (ڈرونز) کے ذریعے بحیرہ اسود میں ناصرف روسی بلکہ ترک مفادات، کارگو جہازوں اور ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بلو سٹریم گیس پائپ لائن کے انفراسٹرکچر پر بھی بار بار حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ترکی ان واقعات پر کھل کر مؤقف اختیار کرے گا اور کیف کو سخت پیغام دے گا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ ایران پر دوبارہ حملے تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، جس سے مذاکرات کا راستہ بند اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے افریقی ممالک کے ساتھ روسی تعاون کو بگاڑنے کی مغربی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ روس ساحل خطے کی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی تربیت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اکتوبر میں ماسکو میں ہونے والے روس، افریقہ سربراہی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون اہم ایجنڈا ہوگا