LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں

Web Desk

14 July 2026

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے ٹیکس جمع کرنے والے سرکاری ادارے ‘انٹرنل ریونیو سروس’ (IRS) کے خلاف دائر مقدمے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ سزائیں سنا دی ہیں۔ وفاقی جج نے اس ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دو بیٹوں نے عدالتی کارروائی کے دوران واضح طور پر بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔ جج نے اپنے فیصلے میں ٹرمپ کے وکلاء کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ اور عدالت کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق سزاؤں کا حکم جاری کیا۔

وفاقی عدالت نے اس معاملے پر امریکی محکمہ انصاف کی بھی سخت سرزنش کی اور تاریخی ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئی آر ایس (IRS) کے خلاف دائر کیا گیا یہ مقدمہ کسی جائز قانونی چارے جوئی کے لیے نہیں بلکہ سراسر ایک غیر مناسب مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ جج کے مطابق، ٹرمپ اور ان کی قانونی ٹیم عدالتی عمل میں ہیرا پھیری کرنا چاہتی تھی تاکہ پسِ پردہ طے پانے والی ایک ایسی انتہائی متنازع ڈیل کو قانونی تحفظ اور درجہ دیا جا سکے، جس کے ذریعے صدر ٹرمپ کو مستقبل میں بھاری ٹیکسوں سے چھوٹ اور تحفظ مل جاتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے کندھے پر بندوق رکھ کر ذاتی اور مالی مفادات حاصل کرنے کی ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔