LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات، اے آئی اور تجارت سمیت مختلف امور زیرِغور دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند سے آگے تک پھیل سکتا ہے: ایران پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان سیاسی مشاورت کا پانچواں دور، تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ پر شاندار استقبال اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے ڈاکٹر محمد نجیب نقی صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب، حلف اٹھا لیا نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل

انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں

Web Desk

14 July 2026

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے ٹیکس جمع کرنے والے سرکاری ادارے ‘انٹرنل ریونیو سروس’ (IRS) کے خلاف دائر مقدمے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ سزائیں سنا دی ہیں۔ وفاقی جج نے اس ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دو بیٹوں نے عدالتی کارروائی کے دوران واضح طور پر بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔ جج نے اپنے فیصلے میں ٹرمپ کے وکلاء کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ اور عدالت کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق سزاؤں کا حکم جاری کیا۔

وفاقی عدالت نے اس معاملے پر امریکی محکمہ انصاف کی بھی سخت سرزنش کی اور تاریخی ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئی آر ایس (IRS) کے خلاف دائر کیا گیا یہ مقدمہ کسی جائز قانونی چارے جوئی کے لیے نہیں بلکہ سراسر ایک غیر مناسب مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ جج کے مطابق، ٹرمپ اور ان کی قانونی ٹیم عدالتی عمل میں ہیرا پھیری کرنا چاہتی تھی تاکہ پسِ پردہ طے پانے والی ایک ایسی انتہائی متنازع ڈیل کو قانونی تحفظ اور درجہ دیا جا سکے، جس کے ذریعے صدر ٹرمپ کو مستقبل میں بھاری ٹیکسوں سے چھوٹ اور تحفظ مل جاتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے کندھے پر بندوق رکھ کر ذاتی اور مالی مفادات حاصل کرنے کی ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔