LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان

Web Desk

13 July 2026

یورپی یونین نے غزہ میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری تباہ کن جنگ کے نقصانات کے ازالے اور وہاں زندگی کی بحالی کے لیے ایک ارب ڈالر (تقریباً 900 ملین یورو) کے بڑے امدادی اور تعمیرِ نو کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں “ٹیم غزہ انیشیٹو” کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز برسلز میں منعقدہ ڈونرز کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ یورپی کمیشن کے مطابق، اس اسکیم کے تحت غزہ میں پانی اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی ہنگامی بحالی، جنگی ملبے اور کوڑے کو ٹھکانے لگانے اور صحت، توانائی، زراعت و خوراک کے نظام کو دوبارہ قائم کرنے جیسے متعدد حیاتیاتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ تاہم، تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طویل جنگ اور نسل کشی کے نتیجے میں ہونے والی بے پناہ تباہی کے بعد غزہ کی مکمل تعمیرِ نو کے لیے دسیوں ارب ڈالرز درکار ہیں، اور یورپی یونین کا یہ فنڈ اس تخمینے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

بحیرہ روم کے لیے یورپی یونین کی کمشنر ڈوبراوکا سوئیکا نے ڈونر میٹنگ سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابتدائی طور پر تقریباً ایک بلین ڈالر کا پیکج پیش کر رہے ہیں، اور ہمارا مقصد واضح ہے کہ فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کر کے ان کے لیے امید، لچک اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد کی جائے۔ یورپی کمیشن کے بیان کے مطابق، اس عالمی فلاحی اقدام میں کمیشن کے ساتھ ساتھ اسپین، فرانس، ڈنمارک، برطانیہ، جرمنی، ناروے، فن لینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، بیلجیم، ورلڈ بینک (عالمی بینک) اور یورپی انویسٹمنٹ بینک فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ آسٹریلیا اور کینیڈا کی شمولیت بھی جلد ہی متوقع ہے۔ یہ فنڈ غزہ کے جنگ زدہ مظلوم شہریوں کو پینے کے صاف پانی، صحت کی بنیادی سہولیات اور زرعی و غذائی تحفظ کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔