LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا برطانیہ پر یوکرین جنگ میں براہِ راست شریک ہونے کا الزام امریکا جانتا اس کی دھمکیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا: باقر قالیباف ایران پر نئی امریکی پابندیاں، اقتصادی لائف لائنز منقطع کرنے کا اعلان ہم ایران سمیت ہر میدان میں کامیاب ہو رہے ہیں: ٹرمپ اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، باہمی اُمور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کا کینیڈین گاڑیوں، آٹو پارٹس اور سٹیل پر 50 فیصد ٹیرف کا اعلان مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنانا چاہتے ہیں: بیرسٹر گوہر اسحاق ڈار کی سیکرٹری جنرل آئی ایم او سے ملاقات، پاکستانی ملاحوں کی رہائی پر تبادلہ خیال اسلام آباد میں کال سینٹرز کیخلاف کریک ڈاؤن، مزید 50 غیر ملکی گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال یوکرینی ڈرونز کے روسی علاقوں پر بڑے حملے، 351 ڈرون تباہ، تین بچے ہلاک کیف کو روس پر حملوں کے نتائج کا سامنا جاری رہے گا: کریملن بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد

وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرلیں

Web Desk

4 July 2026

وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے ملکی بحری امور، بندرگاہوں اور بلیو اکانومی (Blue Economy) کے فروغ کے لیے ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں غیر معمولی اور نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ دسمبر 2024 میں قائم کی گئی اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹی نے بحری شعبے کی کایا پلٹنے کے لیے تجویز کردہ 99 اصلاحات میں سے 85 ایکشن پوائنٹس پر کامیابی سے عملدرآمد مکمل کر لیا ہے۔

اس اعلیٰ اختیاری کمیٹی میں وزارتِ دفاع، بحری امور، لاجسٹکس شعبوں بشمول نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کے اعلیٰ تکنیکی ماہرین اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان شامل ہیں۔ ٹاسک فورس کی رپورٹ کے مطابق، بقیہ 14 نکات میں سے 11 تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ 3 پیچیدہ نکات پر طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت تیزی سے کام جاری ہے۔

تکمیل شدہ اہم ترین اصلاحات میں ملک کی تمام قومی بندرگاہوں کے لیے ایک جدید ‘ماسٹر پلان’ کی تیاری، یکساں پورٹ ٹیرف کا نفاذ اور ٹرانزٹ تجارت کی سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کی کارکردگی اور مال برداری کی استعداد میں اضافہ، اقتصادی زونز (Economic Zones) کی نگرانی کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل نظام کا قیام اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کی قیمتی اراضی سے ناجائز تجاوزات کا مکمل خاتمہ بھی ان اصلاحات کا حصہ ہے۔

بحری تجارت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے ٹرانس شپمنٹ اور بنکرنگ (جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) کے لیے نئے کسٹم رولز متعارف کروائے گئے ہیں، جس سے مقامی جہاز سازی اور بحری جہازوں کی مرمت کے نظام (Ship Repair) کو فروغ ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق، ایک بڑی کامیابی کے طور پر ملک میں پورے 8 سال کے طویل تعطل کے بعد جہازوں کی ری سائیکلنگ (Ship Recycling) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، صوبائی سطح پر ماہی گیری (Fisheries) کے شعبے کو جدید بنانے اور مچھلیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع ‘پنج سالہ منصوبہ’ بھی حتمی شکل پا چکا ہے۔

بندرگاہوں کی گہرائی برقرار رکھنے اور ڈریجنگ کے عمل میں غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی فیصلے کے تحت نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو بحری انجینئرنگ کے شعبے میں خود انحصار بنانے کی جانب ایک بڑا اور کلیدی میل پتھر ثابت ہوگا۔