آزاد کشمیر کے فیصلے کشمیر میں ہی ہوں گے، جو کرپشن میں ملوث پایا گیا، وہ وزیر نہیں رہےگا: عبدالعلیم خان
Web Desk
3 July 2026
استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP) کے صدر عبدالعلیم خان نے آزاد کشمیر کے لیے اپنے بڑے سیاسی ویژن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں جدید موٹروے اور ایئرپورٹ تعمیر کیے جائیں گے تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ اب آزاد کشمیر کے تمام فیصلے کسی اور جگہ کے بجائے خود کشمیر میں بیٹھ کر کیے جائیں گے۔
ایک جلسے اور میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے کرپشن کے خلاف انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے اعلان کیا: ”اگر آزاد کشمیر میں ہماری حکومت کے دوران کرپشن ہوئی تو اس کا براہِ راست ذمہ دار میں خود ہوں گا۔ آزاد کشمیر میں جو بھی وزیر یا مشیر کرپشن میں ملوث پایا گیا، وہ فوری طور پر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہے گا۔“ انہوں نے مزید وعدہ کیا کہ حکومت میں آنے کے بعد آزاد کشمیر کے بچوں کو سو فیصد (100%) معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
سیاسی منظرنامے اور مخالفین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عبدالعلیم خان نے گلگت بلتستان (GB) کی مثال دی اور کہا کہ اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جی بی میں آزاد امیدوار آئی پی پی میں کیوں شامل ہوئے؟ انہوں نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس آنے سے پہلے وہ آزاد ارکان دونوں بڑی جماعتوں کے پاس گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے انہیں کہا کہ ہم گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھیں گے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ 9 ارکان ہمارے اپنے ہیں، اس لیے پہلے ان کا حق ہے اور ان کے بعد آپ کا نمبر آئے گا۔ اس کے برعکس جب وہ آزاد ارکان استحکامِ پاکستان پارٹی میں آئے تو انہیں اولیت (ایک، دو اور تین نمبر) دی گئی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی صحافیوں کو اتنی سادہ سی بات نہ جانے کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ آج کشمیر کے مخلص اور سیاسی لوگ ایک نئے ویژن کے ساتھ ہمارے پاس آئے ہیں کیونکہ وہ آزاد کشمیر میں روایتی سیاست کو بدلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا کشمیریوں کو دوبارہ انہی پرانی جماعتوں میں جانا چاہیے جو آج تک ان کی محرومیوں کی اصل ذمہ دار ہیں؟ جو جماعتیں ماضی میں عوام کی محرومیاں دور کرنے میں بری طرح ناکام رہیں، وہ اب مستقبل میں کیا کریں گی؟ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آئی پی پی آزاد کشمیر کی تقدیر بدلنے کے لیے میدان میں اتر چکی ہے۔
متعلقہ عنوانات
قومی اسمبلی کا جعلی افسر بننے والا گرفتار، اسپیکر کےگھوٹکی: قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر فراڈ کرنے والا ملزم ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار، اسپیکر کے جعلی دستخط بھی برآمد گھوٹکی/سکھر: وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) سکھر زون نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر مختلف افراد اور اداروں سے فراڈ کرنے والے ایک شاطر ملزم کو سندھ کے ضلع گھوٹکی سے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک باقاعدہ اور تحریری شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، گرفتار ملزم خود کو قومی اسمبلی کے ‘پارلیمانی فرینڈشپ گروپ’ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کرتا تھا اور اس جعلی شناختی رعب کے ذریعے طویل عرصے سے مختلف سرکاری و نجی اداروں اور سادہ لوح افراد کو گمراہ کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو سچ ثابت کرنے کے لیے انتہائی مہارت سے جعلی سرکاری دستاویزات، لیٹر ہیڈز اور کارڈز بھی تیار کر رکھے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے ہو بہو جعلی دستخط استعمال کرتے ہوئے اپنا ایک بوگس تقرری نامہ (Appointment Letter) بھی تیار کیا ہوا تھا، جسے وہ مختلف جگہوں پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر پیش کر کے خود کو اصل سرکاری افسر ظاہر کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے تمام جعلی دستاویزات اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قبضے میں لے کر انہیں فرانزک جانچ (Forensic Analysis) کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور سرکاری افسر کا روپ دھارنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم سے اس وقت تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نے اب تک اس جعلی شناخت کے ذریعے کتنے مالی اور انتظامی فوائد حاصل کیے، اور کیا اس جعلسازی میں کوئی منظم گینگ یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کوئی اندرونی کارندہ بھی ملوث ہے یا نہیں۔ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ کیس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید اہم گرفتاریوں اور انکشافات کی توقع ہے۔ وضاحت: موصولہ متن کے درمیان میں “لاہور میں 760 غیرقانونی تعلیمی اداروں کا انکشاف” کی ایک لائن موجود تھی، جو کہ گھوٹکی میں ایف آئی اے کی کارروائی اور قومی اسمبلی کے جعلی افسر کے کیس سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کسی دوسری خبر کی سرخی معلوم ہوتی ہے، اس لیے صحافتی اصولوں کے مطابق اسے اس رپورٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جعلی دستخط سے تقرری نامہ بھی تیار کرلیا
3 July 2026
چند لاکھ روپے سے جانوں کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا، کاہنہ بستی سانحہ پر حافظ نعیم الرحمان کی حکومت پر شدید تنقید
3 July 2026
آڈیالہ جیل کا قیدی دورانِ علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا
3 July 2026
وزیراعظم شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیہ روانہ
3 July 2026
28 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب تلف، 18 ہزار بوتلیں نذرِ آتش
3 July 2026
ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 17 افراد جاں بحق، 41 زخمی ہوئے: این ڈی ایم اے
3 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت
3 July 2026
دبئی پولیس نے وائرل ’مائیکرو ویو اوون سلائم‘ ٹرینڈ سے خبردار کردیا
3 July 2026