دبئی پولیس نے وائرل ’مائیکرو ویو اوون سلائم‘ ٹرینڈ سے خبردار کردیا
Web Desk
3 July 2026
متحدہ عرب امارات (UAE) میں دبئی پولیس نے والدین اور بچوں کو سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والے ایک انتہائی خطرناک آن لائن ٹرینڈ کے خلاف سخت وارننگ جاری کر دی ہے، جس میں بچوں کو مائیکرو ویو اوون کے اندر ‘سلائم’ (Slime – بچوں کے کھیلنے والی لیس دار مٹی) کو گرم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ اہم ایڈوائزری اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز پر سامنے آئی ہے، کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بچے گھروں پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور سستی شہرت یا تجسس میں آن لائن نظر آنے والے خطرناک چیلنجز کی اندھی تقلید کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دبئی پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ہیومن رائٹس کے ‘چائلڈ اینڈ ویمن پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ’ اور جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کرمنل انویسٹی گیشن کے ‘سائبر کرائم اینڈ ای-کرائم پریوینشن ڈیپارٹمنٹ’ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سلائم کو مائیکرو ویو اوون میں گرم کرنے سے اس کے اندر موجود اجزا میں شدید کیمیکل ری ایکشن (کیمیائی عمل) پیدا ہوتا ہے، جس سے بچوں کے شدید جھلسنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حکام نے سائنسی و تکنیکی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب سلائم کو مائیکرو ویو کے اندر تیز درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے تو وہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اس کے اندر سے شدید گرم بخارات اور پگھلا ہوا کیمیکل مواد خارج ہوتا ہے۔ جیسے ہی بچے اس پگھلے ہوئے مواد کو مائیکرو ویو سے باہر نکالتے ہیں، یہ اچانک دھماکے سے پھٹ سکتا ہے یا چھینٹوں کی صورت میں اڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں چہرے، آنکھوں، ہاتھوں اور جسم کے دیگر حساس حصوں پر براہِ راست گہرے زخم آ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی پولیس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ عمل نہ صرف انسانی جان کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے مائیکرو ویو اوون بلاسٹ ہو سکتا ہے، گھریلو اشیا کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور شارٹ سرکٹ یا اوون کے غلط استعمال کے باعث گھر میں ہولناک آگ بھی لگ سکتی ہے۔
دبئی پولیس نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایسی وائرل ویڈیوز کا اصل اور سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ معصوم بچے اس کے بھیانک نتائج کو سمجھے بغیر محض تفریح کے لیے ان کی ہو بہو نقل کرتے ہیں۔ پولیس فورس نے تمام والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے بچوں کی رہنمائی کے لیے فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیے جانے والے گمراہ کن مواد کی اندھی تقلید سے سختی سے روکیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس بات کی کڑی نگرانی (Monitoring) کریں کہ ان کے بچے انٹرنیٹ پر کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
قومی اسمبلی کا جعلی افسر بننے والا گرفتار، اسپیکر کےگھوٹکی: قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر فراڈ کرنے والا ملزم ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار، اسپیکر کے جعلی دستخط بھی برآمد گھوٹکی/سکھر: وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) سکھر زون نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر مختلف افراد اور اداروں سے فراڈ کرنے والے ایک شاطر ملزم کو سندھ کے ضلع گھوٹکی سے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک باقاعدہ اور تحریری شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، گرفتار ملزم خود کو قومی اسمبلی کے ‘پارلیمانی فرینڈشپ گروپ’ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کرتا تھا اور اس جعلی شناختی رعب کے ذریعے طویل عرصے سے مختلف سرکاری و نجی اداروں اور سادہ لوح افراد کو گمراہ کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو سچ ثابت کرنے کے لیے انتہائی مہارت سے جعلی سرکاری دستاویزات، لیٹر ہیڈز اور کارڈز بھی تیار کر رکھے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے ہو بہو جعلی دستخط استعمال کرتے ہوئے اپنا ایک بوگس تقرری نامہ (Appointment Letter) بھی تیار کیا ہوا تھا، جسے وہ مختلف جگہوں پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر پیش کر کے خود کو اصل سرکاری افسر ظاہر کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے تمام جعلی دستاویزات اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قبضے میں لے کر انہیں فرانزک جانچ (Forensic Analysis) کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور سرکاری افسر کا روپ دھارنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم سے اس وقت تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نے اب تک اس جعلی شناخت کے ذریعے کتنے مالی اور انتظامی فوائد حاصل کیے، اور کیا اس جعلسازی میں کوئی منظم گینگ یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کوئی اندرونی کارندہ بھی ملوث ہے یا نہیں۔ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ کیس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید اہم گرفتاریوں اور انکشافات کی توقع ہے۔ وضاحت: موصولہ متن کے درمیان میں “لاہور میں 760 غیرقانونی تعلیمی اداروں کا انکشاف” کی ایک لائن موجود تھی، جو کہ گھوٹکی میں ایف آئی اے کی کارروائی اور قومی اسمبلی کے جعلی افسر کے کیس سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کسی دوسری خبر کی سرخی معلوم ہوتی ہے، اس لیے صحافتی اصولوں کے مطابق اسے اس رپورٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جعلی دستخط سے تقرری نامہ بھی تیار کرلیا
3 July 2026
چند لاکھ روپے سے جانوں کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا، کاہنہ بستی سانحہ پر حافظ نعیم الرحمان کی حکومت پر شدید تنقید
3 July 2026
آڈیالہ جیل کا قیدی دورانِ علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا
3 July 2026
وزیراعظم شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیہ روانہ
3 July 2026
28 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب تلف، 18 ہزار بوتلیں نذرِ آتش
3 July 2026
ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 17 افراد جاں بحق، 41 زخمی ہوئے: این ڈی ایم اے
3 July 2026
آزاد کشمیر کے فیصلے کشمیر میں ہی ہوں گے، جو کرپشن میں ملوث پایا گیا، وہ وزیر نہیں رہےگا: عبدالعلیم خان
3 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت
3 July 2026