LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران

افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور یورپی دورےکیخلاف برازیل میں بڑا مظاہرہ

Web Desk

2 July 2026

افغان طالبان حکومت کی مبینہ جابرانہ پالیسیوں اور ان کے حالیہ دورۂ برسلز کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ افغان جریدے ‘ہشت صبح’ کے مطابق، انسانی حقوق کی معروف تنظیم ‘وائس آف وومن’ (Voice of Women) کے زیرِ اہتمام برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں طالبان کی ظالمانہ پالیسیوں اور ان کے یورپی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اس مظاہرے میں برازیل میں مقیم افغان مہاجرین سمیت مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور پرتگالی زبان میں لکھے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر “طالبان کو تسلیم نہ کریں” اور “افغان خواتین کا ساتھ دیں” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے افغان خواتین کی آزادی، تعلیم اور روزگار کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے طالبان کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ افغان طالبان کو یورپی پارلیمنٹ میں مدعو کرنا افغان عوام اور انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان کو ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر تسلیم کیا جائے اور انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے۔

دوسری جانب، عالمی سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تکنیکی روابط کے بہانے طالبان کو عالمی قبولیت (Legitimacy) فراہم کرنا دنیا بھر میں انتہا پسند نظریات کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔ برازیل میں ہونے والا یہ حالیہ احتجاج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی رائے عامہ طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی نارملائزیشن کے سخت خلاف ہے۔