LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

جوا ایپس پروموشن کیس: عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری

Web Desk

1 July 2026

آن لائن جوا کھیلنے والی ایپلی کیشنز (Gambling Apps) کی تشہیر اور پروموشن کے کیس میں نامزد معروف یوٹیوبر عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر عدالت نے اپنا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نصرت علی صدیقی نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سماعت کے دوران ملزمہ عروب جتوئی کی جانب سے نامور وکلا ایڈووکیٹ عثمان لطیف، ایڈووکیٹ برھان الدین، بیرسٹر امرت شیخ اور ایڈووکیٹ آفتاب ظفر نے پیش ہو کر ضمانت کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یوٹیوبر عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے ملزمہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالت کی جانب سے ضمانت کی وجوہات: تحریری فیصلے میں عدالت نے ضمانت منظور کرنے کی درج ذیل اہم وجوہات کا ذکر کیا . عروب جتوئی کا نام ابتدائی طور پر درج کی گئی ایف آئی آر (FIR) میں شامل نہیں تھا۔ ان کا نام بعد میں مرکزی ملزم سعد الرحمٰن (ڈکی بھائی) کی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد مقدمے کا حصہ بنایا گیا۔  سائبر کرائمز سے متعلقہ ادارے این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے عروب جتوئی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا ان کا کوئی مخصوص مجرمانہ کردار عدالت کے سامنے نہیں لایا جا سکا۔ تفتیشی ادارے این سی سی آئی اے نے اب تک عروب جتوئی کے موبائل فون کا کوئی فرانزک تجزیہ یا لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کروایا۔تفتیشی ٹیم عدالت میں ایسی کوئی بھی ویڈیو یا ڈیجیٹل ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ عروب جتوئی نے خود جوا ایپس کی تشہیر کی ہو۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اب تک کسی بھی عام   شہری نے عروب جتوئی کے خلاف دھوکہ دہی، فراڈ یا آن لائن جوا کھیلنے پر اکسانے کا کوئی الزام یا شکایت درج نہیں کروائی۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ اس کیس کے شریک ملزم سعد الرحمٰن (ڈکی بھائی) کو پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق عروب جتوئی کا کردار اس کیس میں شریک ملزم سے بھی کہیں کم نوعیت کا ہے، اس لیے وہ قانون کے مطابق ضمانت کی حقدار ہیں۔