LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ

برطانیہ کا مزید 45 ہزار غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کرنے کا اعلان

Web Desk

30 June 2026

برطانیہ نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور غیر ملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید سخت کرتے ہوئے آئندہ 10 برسوں کے دوران 45 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق، برطانوی حکومت کے اس نئے اور جامع منصوبے کے تحت ملک بدری (Deportation) کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز (Immigration Removal Centres) کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے حراستی مراکز میں فوری طور پر ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو کمیونٹی میں آزاد چھوڑنے کے بجائے محفوظ حراست میں رکھا جا سکے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی گنجائش کا بنیادی مقصد غیر ملکی سنگین مجرموں، ویزا کی خلاف ورزی کر کے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو جلد از جلد حراست میں لینا ہے تاکہ ان کی بیدخلی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سخت اقدام کا مقصد برطانوی امیگریشن نظام کو مؤثر بنانا، سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط کرنا اور عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ حکام نے اعادہ کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور ملک بدری کے نظام کو مزید سخت بنانے کے لیے آئندہ بھی ایسے عملی اور سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔