LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
تہران میں 4 ملکی اجلاس کا اعلامیہ جاری، علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق پاکستان انڈر 18 بیس بال ٹیم نے امریکی ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیا مسلم ممالک کا اتحاد اسرائیلی جارحیت روک سکتا ہے: ایرانی صدر روس کے شہر وورونژ پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 3 افراد ہلاک، 39 زخمی پاکستان نے 54 ارب روپے کی چینی درآمد کرلی، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش سعودی وزیر دفاع کا دورہ تہران کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہے: سعودی وزارت خارجہ امریکا 96 گھنٹوں میں ایران پر بڑا حملہ کرسکتا ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ احسن بھون نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا، ڈیفیمیشن ٹربیونل کا نوٹس جاری سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ کے پی پولیس کو جدید ساز و سامان کی فراہمی، اے پی سیز، ایمبولینسز افسران کے حوالے ایرانی قوم بموں سے زیادہ طاقتور، دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی فوج اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

شاہ چارلس کے بچپن کے بال نیلامی کے لیے پیش

Web Desk

1 December 2025

چارلس کے بال 1960 کی دہائی کے اوائل میں شاہی نائی جارج کرسپ نے اس وقت کاٹے تھے جب نوجوان چارلس ابھی شاہی ذمہ داریوں اور اپنی آئندہ زندگی کے بڑے ادوار سے بہت دور تھے۔

پال فریزر کلیکٹیبلزکمپنی نے اس نایاب یادگار کی قیمت 7,995 پاؤنڈ رکھی ہے، یہ کنگ چارلس سوم سے متعلق بے حد ذاتی نوعیت کی اشیا میں شمار ہوتی ہے جو شائقین کو بادشاہ کی شخصیت کے نہایت قریب لے جاتی ہے۔واضح رہے کہ نیلامی میں صرف بال ہی شامل نہیں بلکہ کنگ چارلس کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک کرسمس کارڈ بھی موجود ہے جبکہ شاہی نائی جارج کرسپ کی استعمال شدہ قینچی اور کنگھی بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق جارج کرسپ نہ صرف جارج ششم کے نائی رہے بلکہ 1952 کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کے بھی قابلِ اعتماد ہیئر ڈریسر تھے، 1960 کی دہائی میں وہ باقاعدگی سے میفر کے ٹرمپرس سے بکھنگھم پیلس جاتے تھے تاکہ نوجوان چارلس کے گھنے سیاہ بال تراش سکیں۔