LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ

امریکا، خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت ناگزیر قرار دیدی

Web Desk

27 June 2026

امریکا اور خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کا ٹول (فیس) قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایک اہم وزارتی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور اس کے پراکسی گروپوں سمیت تمام سیکیورٹی خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اعلامیے میں واشنگٹن اور خلیجی ممالک نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں تجارت اور سرمایہ کاری صرف مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد سے ہی مشروط ہوگی۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے ایران پر عراق میں پراکسی گروپوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ تاہم، مشترکہ اعلامیے میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم بھی کیا گیا اور اس سفارتی عمل میں پاکستان اور قطر کے مثبت و تعمیری ثالثی کردار کی تعریف کی گئی۔