LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل

ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس

Web Desk

27 June 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی یا خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی، تو امریکی فوج کی جانب سے تشدد کا جواب بھرپور تشدد سے دیا جائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سرکاری بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے باقاعدہ طور پر اس جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور امریکہ نے اب تک اس کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کی ہے؛ لہٰذا اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت (MOU) پر عمل درآمد کے موجودہ طریقہ کار یا اس کے فریم ورک پر کوئی بھی اعتراض ہے، تو وہ کسی یکطرفہ کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع سے براہِ راست واشنگٹن سے رابطہ کر سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر، جو ایران کے ساتھ اس اہم امن عمل اور سفارتی مذاکرات کے لیے امریکی ٹیم کی اعلیٰ قیادت بھی کر رہے ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن بین الاقوامی سطح پر اپنے کیے گئے تمام وعدوں پر سختی سے قائم ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکی مفادات پر حملوں کو برداشت کیا جائے گا، بلکہ کسی بھی ایرانی جارحانہ اقدام کا دندان شکن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمان نے ان تزویراتی عسکری حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ایران کے خلاف کیے گئے حالیہ امریکی فضائی حملے دراصل خلیجِ فارس میں سنگاپور کے ایک تجارتی بحری جہاز پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کا براہِ راست تادیبی ردعمل ہیں، جس کا صریح الزام واشنگٹن نے ٹھوس شواہد کے ساتھ تہران کی عسکری قیادت پر عائد کیا ہے۔