LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے

Web Desk

27 June 2026

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے تزویراتی بحری راستے کے قریب واقع ایرانی اہداف پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے فوراً بعد ایران کے ساحلی علاقے سرک میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ فضائی کارروائی آبنائے ہرمز کے نزدیک ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا کر کی گئی ہے، جس میں بنیادی طور پر ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر (ڈپوز) کو تباہ کیا گیا ہے جبکہ ساحلی پٹی پر نصب رڈار سسٹمز بھی ان حملوں کا کلیدی ہدف بنے ہیں۔

امریکی عسکری حکام نے اس ہنگامی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک تجارتی جہاز پر کیے گئے حالیہ ایرانی حملے کے ٹھوس جواب میں کی گئی ہے۔ سینیٹ کام کے مطابق، ایران نے 25 جون کو سنگاپور کے ایک تجارتی مال بردار جہاز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا تھا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی تھی، جس کے بعد امریکی افواج کے لیے یہ تادیبی کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ان امریکی فضائی حملوں پر فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام نے امریکی فوج کے اس حملے کو کامیابی سے پسپا کر دیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز نے تنبیہ کی ہے کہ اس امریکی جارحیت کا جواب انتہائی تیز، ہولناک اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔