ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر
Web Desk
27 June 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 4 خودکش ڈرونز داغے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تند و تیز پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے ان خودکش ڈرونز میں سے ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی قیمتی مال بردار جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرایا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا، جبکہ دیگر 3 ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا گیا۔ امریکی صدر نے اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز پر 3 بحری جہازوں کا راستہ روک دیا تھا، جس پر ایرانی نیوی کا مؤقف تھا کہ یہ جہاز مقررہ راستے سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے اور پاسدارانِ انقلاب کی وارننگ کے بعد واپس مڑ گئے۔
اسی دوران ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو متوازی راستوں اور ایران کو نظر انداز کر کے ہرگز محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ بحری انتظام کا فریم ورک ‘اسلام آباد میمورنڈم’ کی شق 5 کے مطابق ہونا چاہیے، بصورتِ دیگر متوازی بحری راستے کی معطلی ناگزیر ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی افواج کی مشترکہ کمانڈ ‘خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈکوارٹرز’ کے ترجمان نے ایک اور تشویشناک دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود میں اسرائیلی طیارے ایران کی جانب آتے دیکھے گئے ہیں، جو کہ خطے کے لیے ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے اور ایران اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ ترجمان نے پینٹاگون کو تنبیہ کی کہ اگر امریکہ اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہا تو ایران مناسب جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے اور اپنے خلاف کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ان تزویراتی عسکری معاملات کے علاوہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک اور علیحدہ پیغام میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف اپنی انتظامیہ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاریاں، حراست اور ملک بدری کے اعداد و شمار کسی بھی سابقہ امریکی صدر کے دور سے زیادہ اور ریکارڈ سطح پر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا اور ڈیموکریٹس پر غلط اعداد و شمار پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پچھلے 12 ماہ کے دوران ملک بدر کیے گئے افراد کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ رہی ہے، اور سابقہ اوباما دور کے اعداد و شمار کا موجودہ انتظامیہ سے موازنہ کرنا بالکل غلط ہے، جبکہ ملک بدری کے بہت سے حتمی احکامات ابھی عدالتوں کی طرف سے زیرِ التوا ہیں۔
متعلقہ عنوانات
امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی
27 June 2026
18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج
27 June 2026
سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک
27 June 2026
اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ
27 June 2026
روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطہ، خلیج فارس کی صورتحال پر تبادلہ خیال
27 June 2026
مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
27 June 2026
روس کی مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
27 June 2026
برسلز پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید احتجاج
27 June 2026