LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی، سابق امریکی وزیر دفاع برطانیہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے سٹریٹجک وسعت و علاقائی توازن کا ذریعہ قرار امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا 75 ممالک پر عائد ویزا پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، محسن رضائی روس کے یوکرین پر جوابی حملے زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں، صدر پوتن تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار

ایران نے منجمد اثاثوں سے امریکی مصنوعات خریدنے کا دعویٰ مسترد کر دیا

Web Desk

25 June 2026

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کی صورت میں رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے پر صرف کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں باقر قالیباف نے امریکی موقف پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا کہ “امریکہ جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے، ہم نے اب تک امریکہ کی جو واحد فصل دیکھی ہے وہ ‘بے اعتمادی’ ہے جو خالص اور گھریلو ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دعوؤں سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور فضول باتیں ہی ایکسپورٹ کرنا جانتا ہے۔

ایرانی اسپیکر کا یہ کرارا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک-امریکہ-ایران یا دیگر سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال تو کیے جائیں گے، لیکن انہیں قطر کی نگرانی میں ایک مخصوص اکاؤنٹ میں رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا مؤقف تھا کہ ایران اس رقم کو صرف امریکی کسانوں سے مکئی، سویا بین، گندم اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال کرنے کا پابند ہوگا تاکہ امریکی مارکیٹ کو فائدہ پہنچے، تاہم تہران نے اس شرط کو واضح طور پر مسترد کر کے امریکی دعووں کی ہوا نکال دی ہے۔