LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، دو افراد جاں بحق خواجہ سعد رفیق کے بیان پر شرجیل انعام میمن کا ردعمل سامنے آگیا یورپ میں شدید گرمی کی لپیٹ میں ، سپین میں 4 روز میں 212 ہلاکتوں اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا: اسماعیل قانی ایران نے منجمد اثاثوں سے امریکی مصنوعات خریدنے کا دعویٰ مسترد کر دیا خلیجی اتحادیوں کا تحفظ ترجیح، ایران پراکسیز کی حمایت ترک کرے: مارکو روبیو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 164 ہوگئی، 1 ہزار سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل

ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے، سابق جرمن فٹبالر کی فیفا پر کڑی تنقید

Web Desk

25 June 2026

جرمنی کے سابق کپتان، فٹبال لیجنڈ اور ورلڈ کپ فاتح فلپ لاہم نے فیفا (FIFA) کے صدر جیانی انفانٹینو اور عالمی فٹبال کے انتظامی ادارے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فٹبال میں شائقین اور کھلاڑیوں کے حقیقی مفادات کے بجائے اندھا دھند منافع اور تجارتی فائدے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ایک بین الاقوامی اخباری کالم میں فلپ لاہم نے ٹکٹوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹورنامنٹس کے غیر ضروری پھیلاؤ اور کھیل کے بڑھتے ہوئے کاروباری رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فیفا کی پالیسیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے‘‘، جس کے بعد عالمی فٹبال حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

فلپ لاہم کے مطابق آمدنی بڑھانے کی یہ اندھی دوڑ فٹبال کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور دنیا بھر کے روایتی شائقین میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مداح اب کھیل کی اصل روح اور فیفا کے صرف پیسے کمانے والے تجارتی فیصلوں میں فرق کرنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔

سابق جرمن کپتان نے اپنے کالم میں فیفا کے حالیہ انتظامی فیصلوں پر درج ذیل اہم سوالات اٹھائے انہوں نے خاص طور پر فیفا کلب ورلڈ کپ کی توسیع کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ٹیموں کی تعداد کو محض 7 سے یکدم بڑھا کر 32 کر دیا گیا ہے۔ لاہم کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں پر ناقابلِ برداشت اضافی دباؤ پڑے گا، جو پہلے ہی انتہائی مصروف ملکی و بین الاقوامی شیڈول اور طویل سفری مصروفیات کا سامنا کر رہے ہیں۔فٹبال لیجنڈ نے خبردار کیا کہ میچز کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد کھلاڑیوں کی فٹنس، کارکردگی اور کھیل کے معیار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، جبکہ طویل مدت میں کھلاڑیوں میں جسمانی اور ذہنی تھکن (Burnout) کے خطرات حد سے زیادہ بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی طلب اور قیمتوں کے تعین کے حوالے سے شفافیت انتہائی ضروری ہے اور فٹبال حکام کو اس معاملے پر عوام کو زیادہ وضاحت فراہم کرنی چاہیے۔

اپنی تمام تر سخت تنقید کے باوجود، فلپ لاہم نے فیفا کے مین ورلڈ کپ کو 48 ٹیموں تک توسیع دینے کے فیصلے کی کھل کر تعریف بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بڑے فارمیٹ نے ابھرتی ہوئی اور چھوٹی فٹبال قوموں، جیسے کیوراساؤ، کیپ وردے، اسکاٹ لینڈ اور جمہوریہ کانگو کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے، بڑے ممالک کے خلاف کھیلنے اور دنیا کے سامنے نئی متاثر کن کہانیاں رقم کرنے کا ایک بہترین اور تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔