LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

جان ریمبو کا انڈسٹری میں امتیازی سلوک و ناانصافیوں کا انکشاف

Web Desk

25 June 2026

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اور مقبول ترین اداکار افضال خان المعروف جان ریمبو نے ٹیلی وژن انڈسٹری میں سینئر فنکاروں کے ساتھ ہونے والے رویے، ٹائپ کاسٹنگ (ایک ہی جیسے کرداروں میں محدود کرنا) اور غیر منصفانہ کرداروں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جان ریمبو کا شمار لالی ووڈ کے ان چند بڑے ستاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران سینکڑوں فلموں میں مرکزی کردار نبھائے۔ وہ خاص طور پر اپنی بہترین مزاحیہ اداکاری، منفرد باڈی لینگویج اور بہترین رقص (ڈانس) کی صلاحیتوں کے باعث ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جان ریمبو نے فلمی صنعت کے زوال کے بعد ٹیلی وژن کا رخ کرنے والے فنکاروں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلمی دور ختم ہونے کے بعد اگرچہ وہ متعدد ٹی وی ڈراموں میں نظر آئے، لیکن چھوٹے اسکرین کے میکرز نے انہیں ہمیشہ صرف مزاحیہ (کامیڈی) کرداروں تک ہی محدود رکھا۔

اداکار نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

“مجھے ہمیشہ کامیڈی کے دائرے میں بند رکھا گیا، جس کی وجہ سے میں ٹیلی وژن پر ایسے سنجیدہ، گہرے اور مضبوط کردار ادا کرنے سے محروم رہا جن کی مجھے ہمیشہ سے خواہش تھی۔”

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں جاوید شیخ اور ندیم بیگ جیسے لیجنڈ اداکاروں کو فلموں میں کہانی کے عروج پر مبنی مرکزی اور جاندار کردار ملتے تھے، جبکہ ان کے دور کے نوجوان اداکاروں کو زیادہ تر صرف ایکشن مناظر اور گانوں تک محدود کر دیا جاتا تھا۔ اداکار نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب وہ عمر اور تجربے کے اس حصے میں پہنچے جہاں وہ خود کسی کہانی کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتے اور سنجیدہ پرفارمنس دے سکتے، تو بدقسمتی سے پاکستان کی فلمی صنعت زوال کا شکار ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی ٹیلی وژن انڈسٹری بھی ان کی حقیقی فنکارانہ صلاحیتوں کے مطابق کردار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہاں سینیئرز کے تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

انٹرویو کے اختتام پر جان ریمبو نے واضح کیا کہ وہ آج بھی اسکرین پر کام کرنے کے لیے بھرپور توانائی، جذبہ اور فٹنس رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈرامہ میکرز اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ سینئر فنکاروں کو ڈراموں میں محض رسمی کردار دینے کے بجائے ایسے معیاری اور باوقار کردار دیے جائیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اداکاری کے پوشیدہ پہلوؤں کو مداحوں کے سامنے پیش کر سکیں۔