LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیجی اتحادیوں کا تحفظ ترجیح، ایران پراکسیز کی حمایت ترک کرے: مارکو روبیو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، درجنوں عمارتیں منہدم، 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال برازیل نے سکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں 7.5 شدت کا زلزلہ، وینزویلا میں 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ، سونامی وارننگ جاری اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا

جان ریمبو کا انڈسٹری میں امتیازی سلوک و ناانصافیوں کا انکشاف

Web Desk

25 June 2026

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اور مقبول ترین اداکار افضال خان المعروف جان ریمبو نے ٹیلی وژن انڈسٹری میں سینئر فنکاروں کے ساتھ ہونے والے رویے، ٹائپ کاسٹنگ (ایک ہی جیسے کرداروں میں محدود کرنا) اور غیر منصفانہ کرداروں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جان ریمبو کا شمار لالی ووڈ کے ان چند بڑے ستاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران سینکڑوں فلموں میں مرکزی کردار نبھائے۔ وہ خاص طور پر اپنی بہترین مزاحیہ اداکاری، منفرد باڈی لینگویج اور بہترین رقص (ڈانس) کی صلاحیتوں کے باعث ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جان ریمبو نے فلمی صنعت کے زوال کے بعد ٹیلی وژن کا رخ کرنے والے فنکاروں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلمی دور ختم ہونے کے بعد اگرچہ وہ متعدد ٹی وی ڈراموں میں نظر آئے، لیکن چھوٹے اسکرین کے میکرز نے انہیں ہمیشہ صرف مزاحیہ (کامیڈی) کرداروں تک ہی محدود رکھا۔

اداکار نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

“مجھے ہمیشہ کامیڈی کے دائرے میں بند رکھا گیا، جس کی وجہ سے میں ٹیلی وژن پر ایسے سنجیدہ، گہرے اور مضبوط کردار ادا کرنے سے محروم رہا جن کی مجھے ہمیشہ سے خواہش تھی۔”

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں جاوید شیخ اور ندیم بیگ جیسے لیجنڈ اداکاروں کو فلموں میں کہانی کے عروج پر مبنی مرکزی اور جاندار کردار ملتے تھے، جبکہ ان کے دور کے نوجوان اداکاروں کو زیادہ تر صرف ایکشن مناظر اور گانوں تک محدود کر دیا جاتا تھا۔ اداکار نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب وہ عمر اور تجربے کے اس حصے میں پہنچے جہاں وہ خود کسی کہانی کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتے اور سنجیدہ پرفارمنس دے سکتے، تو بدقسمتی سے پاکستان کی فلمی صنعت زوال کا شکار ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی ٹیلی وژن انڈسٹری بھی ان کی حقیقی فنکارانہ صلاحیتوں کے مطابق کردار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہاں سینیئرز کے تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

انٹرویو کے اختتام پر جان ریمبو نے واضح کیا کہ وہ آج بھی اسکرین پر کام کرنے کے لیے بھرپور توانائی، جذبہ اور فٹنس رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈرامہ میکرز اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ سینئر فنکاروں کو ڈراموں میں محض رسمی کردار دینے کے بجائے ایسے معیاری اور باوقار کردار دیے جائیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اداکاری کے پوشیدہ پہلوؤں کو مداحوں کے سامنے پیش کر سکیں۔