LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، 4 سالہ بچے سمیت 2 افراد شہید، 7 زخمی ترکیہ کے ساتھ جنگ کی کوششیں، اسرائیلی اخبار کی نیتن یاہو پر تنقید چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل ہو گئے ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ، فرانس بھی اسرائیلی جرائم میں شریک ہو رہے ہیں: ایران ایران کیخلاف امریکی جنگ کے اخراجات یومیہ 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، جنرل ابن الرضا دفاعی صنعت جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے، ایرانی وزارت دفاع امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ فوجی محاذ پر ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے، پاسداران انقلاب ’’منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے‘‘، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے

اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا

Web Desk

25 June 2026

اٹلی نے نیٹو (NATO) کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے اس بیان کو یکسر مسترد اور غلط قرار دے دیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوجی طیاروں کو اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے اس سنسنی خیز دعوے کی سخت تردید کرتے ہوئے اطالوی وزیر خارجہ گوئیڈو کروسیٹو (Guido Crosetto) نے اس بیان کو انتہائی گمراہ کن قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو چیف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ روم نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگی مہم کی حمایت میں اپنے ہاں قائم فوجی اڈوں سے لگ بھگ 500 امریکی جنگی طیاروں کو اڑان بھرنے کی ہنگامی اجازت دی تھی۔

اطالوی وزیر خارجہ نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے براہِ راست جارحانہ عسکری آپریشن کی اجازت نہیں دی تھی، بلکہ روم کی جانب سے صرف مخصوص قسم کی عام تکنیکی اور لاجسٹک (امدادی و تزویراتی) سرگرمیوں کی ہی منظوری دی گئی تھی۔