LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار برطانوی پارلیمنٹ کا جنگ بندی کیلئے سفارتی کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین

امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار

Web Desk

17 June 2026

عالمی امن کے دشمن اسرائیل کو ایک اور بڑی سفارتی اور تزویراتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکہ نے اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے کی حساس تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب حکومت نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی حالیہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے اور دستاویزات تک رسائی کی ایک باضابطہ سفارتی درخواست امریکی انتظامیہ کو ارسال کی تھی، جسے واشنگٹن نے صاف انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اسے خالصتاً قومی سلامتی کا انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو اس معاہدے کے خدوخال دکھانے سے معذرت کر لی ہے۔ اس غیر متوقع انکار پر اسرائیلی حکام نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو انتہائی حیران کن اور مایوس کن قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے مابین طے پانے والے اس تاریخی 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی انتہائی اہم اور تزویراتی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس مسودے کے تحت درج ذیل اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے:

  • ناکہ بندی کا خاتمہ: خطے میں قائم امریکی بحری ناکہ بندی کو معاہدے پر دستخط کے بعد 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

  • پابندیوں کی معطلی: ایران کے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی عالمی برآمدات پر عائد تمام معاشی پابندیاں فوری طور پر معطل کر دی جائیں گی۔

  • جنگ بندی کا نفاذ: لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے تمام فعال محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • تعمیرِ نو کے فنڈز: مسودے کے تحت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا بھاری فنڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

  • دفاعی پروگرام کا تحفظ: اس حتمی معاہدے کے دائرہ اختیار میں ایران کا اسٹریٹجک میزائل پروگرام اور علاقائی مزاحمتی گروپوں کی سیاسی و عسکری حمایت شامل نہیں ہوگی۔

  • منجمد اثاثوں کی بحالی: طویل مدتی مذاکرات کے اس پورے عمل کے دوران ایران کے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جبکہ امریکہ باقاعدہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی حسنِ نیت کے طور پر ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کا پابند ہوگا۔

  • بین الاقوامی ضمانت: اس حتمی ایران امریکہ امن معاہدے کی باقاعدہ قانونی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے کرانا بھی اس مسودے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔