LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ ہیٹی میں گینگ کے حملے میں 40 افراد ہلاک، درجنوں گھر نذر آتش امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 4 اہلکار محفوظ امریکا نے ایران پر حملوں کو پابندیوں میں منتقل کر دیا، مارکو روبیو

امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے

Web Desk

15 June 2026

امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی بڑا اور تاریخی بریک تھرو سامنے آیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے امن کی باضابطہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر ڈیجیٹل دستخط مکمل کر لیے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دوسری جانب ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس تاریخی دستاویزی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ثبت کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ڈیجیٹل دستخط گزشتہ روز ہی مکمل کر لیے گئے تھے، جبکہ اس تاریخی معاہدے کی تمام تر تفاصیل آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران باقاعدہ طور پر پبلک کر دی جائیں گی اور اسی ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع کیا جائے گا۔

اس تاریخی امن معاہدے کی سب سے اہم اور فوری نافذ العمل ہونے والی شقوں کے مطابق، طویل عرصے سے بند دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو تمام بین الاقوامی بحری آمدورفت اور تجارتی جہازوں کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا، جبکہ اس کے بدلے امریکہ ایران پر عائد اپنی سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کر دے گا، جس کے بعد خطے اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری ٹریفک اور خام تیل کی سپلائی میں نمایاں اضافے کی قوی امید ہے۔ امریکی حکام نے اس سٹرٹیجک معاہدے کے مالیاتی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور دیگر بین الاقوامی مراعات کا براہِ راست تعلق معاہدے کی شقوں پر ایران کے عملی عملدرآمد، شفاف کارکردگی اور مخلصانہ رویے سے مشروط ہو گا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاہدے پر طویل مدتی عملدرآمد کے طریقہ کار، مانیٹرنگ سسٹم اور دیگر پیچیدہ تکنیکی امور کو حتمی شکل دینے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے مابین آنے والے دنوں میں تفصیلی سفارتی و عسکری مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔