مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
Web Desk
15 June 2026
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی منڈیوں کے غیر یقینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں ملکی معاشی اشاریوں، افراطِ زر کے رجحانات اور بیرونی عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مانیٹری پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ امن معاہدے اور جنگ بندی کے بعد خطے میں امن و استحکام کی قوی امیدیں تو پیدا ہوئی ہیں، تاہم عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور افراطِ زر کا دباؤ تاحال برقرار ہے، جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ کے معاملے پر محتاط طرزِ عمل اختیار کرنا ناگزیر سمجھا گیا۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یاد دلایا گیا ہے کہ اس سے قبل 27 اپریل کو ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.50 فیصد کر دیا گیا تھا، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا ممکنہ دباؤ اور بیرونی معاشی خطرات تھے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا موجودہ جائزہ مالی سال 2025-26 کا آخری باضابطہ جائزہ تھا، جس پر ملکی کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کے شعبوں کی گہری نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ تازہ فیصلے کے تحت آئندہ ڈیڑھ ماہ تک شرح سود اسی سطح پر منجمد رہے گی، جبکہ مستقبل میں مانیٹری پالیسی کے حوالے سے کوئی بھی نیا فیصلہ ملکی مہنگائی کی شرح، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مجموعی معاشی استحکام کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے انتہائی غیر پیداواری اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔ صدر فیڈریشن چیمبر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ تاریخی امن معاہدے کے بعد عالمی اور مقامی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں واضح کمی آئے گی، اس لیے مانیٹری پالیسی میں جمود برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈبل ڈیجٹ (دہرے ہندسے) میں منجمد پالیسی ریٹ ملک کی معاشی بقا کے لیے خطرناک ہے کیونکہ قرضوں کی بھاری لاگت میں کمی لانے میں ناکامی کے باعث ملک بھر میں صنعتوں کی بندش کے عمل میں مزید تیزی آئے گی جس سے بیروزگاری بڑھے گی اور پاکستان کے برآمدی اہداف کو شدید ترین دھچکا پہنچے گا۔
متعلقہ عنوانات
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل
29 October 2026
مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد
29 October 2026
ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی
29 October 2026
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز
29 October 2026
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا
29 October 2026
سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی
29 October 2026
برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا
29 October 2026
24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی
29 October 2026