LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ امریکی اداکارہ سیلما بلیئر نے جہاز میں فضائی عملے کو مکے مارنے و کاٹنے پر معافی مانگ لی پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد، غریب، امیر کا معاشی فرق بڑھ گیا عالمی بینک کی سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ

کاروباری اوقات میں توسیع: دکانیں اور بازار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت

Web Desk

2 June 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور عمومی ریٹیل کاروبار رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ شدید گرمی اور دن کے طویل دورانیے کے پیش نظر کیا گیا۔

کمیٹی کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات گیارہ بجے تک کام کر سکیں گے۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ نرمی لاگو نہیں ہوگی اور وہ پہلے کی طرح رات دس بجے بند کیے جائیں گے۔

اسی طرح فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس اور آئی ٹی و ٹیلی کام سروسز کو اس پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق خدمات جاری رکھ سکیں گے۔

نائب وزیراعظم نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ان نئے اوقاتِ کار پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔