LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکول غیر محفوظ قرار: رپورٹ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے جی 24 گروپ کا چیئرمین بن گیا، وزیراعظم کا اظہارِ مسرت ایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بڑے مظاہرے گلگت بلتستان میں آج یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے امریکا کا لہجہ تبدیل، ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادہ ہوگیا: محسن رضائی ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی کرنا باقی ہے: ٹرمپ غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے: حافظ نعیم الرحمان اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑنے لگے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود امارات کی کرپٹو معیشت میں 32 فیصد اضافہ واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی ایرانی و قطری حکام کے دوحہ میں مذاکرات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر گفتگو

عالمی بینک کی سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

Web Desk

31 October 2026

عالمی بینک (World Bank) نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کے ایک اہم پروگرام کے لیے 150 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

عالمی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فراہم کی جانے والی یہ خطیر رقم سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کے خصوصی پروگرام پر خرچ کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں اربن پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے مزید مؤثر بنانا ہے۔

اعلامیے میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس پروگرام کے نفاذ سے سندھ کے مختلف شہروں میں شہریوں کو میونسپل سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ بالخصوص صوبائی دارالحکومت کراچی سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں اضافے کے ذریعے شہر کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی اور اس کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لازمی وسائل باآسانی فراہم کیے جا سکیں گے۔ عالمی بینک کا ماننا ہے کہ اس جامع پروگرام سے صوبے میں مقامی سطح پر ریونیو اکٹھا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی اور طویل مدتی شہری ترقیاتی منصوبوں کی فنانسنگ کا عمل بھی آسان ہو جائے گا۔