LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ

چین: نمک اور آئینوں سے سستی بجلی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

Web Desk

26 May 2026

عوامی جمہوریہ چین نے گرین اور کلین انرجی کے شعبے میں ایک اور حیران کن عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے نمک اور ہزاروں آئینوں کی منفرد سائنسی آمیزش سے انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کی جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔ یہ انقلابی منصوبہ روایتی سولر پینلز کے مقابلے میں رات کے وقت بھی بجلی فراہم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جدید پاور پلانٹ میں تقریباً 12 ہزار مخصوص آئینے نصب کیے گئے ہیں، جو سورج کی روشنی کو منعکس (Reflect) کر کے ایک عظیم الجثہ مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔ اس ٹاور کی بلندی تقریباً 80 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ آئینوں کی مدد سے جب سورج کی شعاعیں اس ٹاور پر پڑتی ہیں، تو اس کے اندر موجود نمک کا ذخیرہ شدید ترین حرارت کے باعث 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پگھل کر گرم ہو جاتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے؟

اس انوکھے پاور ہاؤس کا طریقہ کار درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:

  1. تھرمل انرجی کا حصول: 12 ہزار آئینے سورج کی روشنی کو 80 منزلہ ٹاور پر فوکس کرتے ہیں۔

  2. نمک کا پگھلنا: ٹاور میں موجود نمک کی بڑی مقدار شدید ترین گرمی سے مائع (Molten Salt) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

  3. بھاپ کی تیاری: اس انتہائی گرم نمک کو خصوصی انسولیٹڈ ٹینکوں میں محفوظ کیا جاتا ہے، جہاں اس کی تپش سے پانی کو تیز رفتار بھاپ (Steam) میں بدلا جاتا ہے۔

  4. بجلی کی پیداوار: یہ بھاپ روایتی ٹربائنز کو گھماتی ہے، جس سے پیدا ہونے والی سستی بجلی اس وقت لاکھوں چینی گھروں کو فراہم کی جا رہی ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی خاصیت پگھلے ہوئے نمک کی حرارت کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ عام سولر سسٹم کے لیے استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں محض چند گھنٹے کا بیک اپ دیتی ہیں، جبکہ یہ تھرمل سسٹم سورج غروب ہونے کے بعد بھی لگاتار 11 گھنٹے تک بغیر کسی تعطل کے بجلی کی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کے اس مشن کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس وقت چین میں اس نوعیت کے متعدد منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 3 ہزار میگاواٹ ہے۔ بیجنگ انتظامیہ نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سال 2030 تک اسی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے 15 ہزار میگاواٹ بجلی ملکی گرڈ میں شامل کی جائے گی تاکہ تیل اور گیس جیسے مہنگے ایندھن پر انحصار ختم کیا جا سکے۔

ماہرینِ معیشت اور توانائی کا کہنا ہے کہ چین کا یہ کلین انرجی ماڈل پاکستان کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے تپتے ہوئے صحرائی علاقوں (جیسے تھر اور چولستان) میں چینی تعاون سے ایسے تھرمل پاور پلانٹس لگائے، تو ملک کو درپیش بجلی کے سنگین بحران اور مہنگی بجلی سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکتی ہے۔