LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

بھارتی چیف جسٹس کےمتنازع تبصرےپر“کاکروچ جنتا پارٹی” کےنام پرسیاسی مہم کا آغاز

Web Desk

22 May 2026

بھارت میں ایک 30 سالہ نوجوان طالب علم نے عدلیہ کی جانب سے دیے گئے ایک مبینہ طعنے کو ایک منفرد اور مقبولِ عام سیاسی شناخت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نامی طالب علم کی جانب سے شروع کی گئی “کاکروچ جنتا پارٹی” (Cockroach Janta Party) نامی غیر رسمی تحریک اس وقت بھارتی سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر رہی ہے اور چند ہی دنوں میں اس نے لاکھوں نوجوانوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس انوکھی اور احتجاجی تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض چند روز میں اس کے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر فالوورز کی تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس تحریک کی ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زائد نوجوان باقاعدہ طور پر ممبر کے طور پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

اس پوری تحریک کا پسِ منظر بھارتی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار کے ایک مبینہ تبصرے سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) نے سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران سوشل میڈیا پر سرگرم اور حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے تھے۔

چیف جسٹس نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ:

“کچھ بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ (لال بیگ) اور ’پیرا سائٹ‘ (طفیلئے) کی طرح پورے نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف سرگرم کارکن بن جاتے ہیں۔”

اگرچہ بعد میں پیدا ہونے والے شدید تنازع اور نوجوانوں کے ملک گیر احتجاج کے بعد چیف جسٹس نے یوٹرن لیتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا یہ بیان تمام نوجوانوں کے لیے نہیں تھا، لیکن تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔