LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا اسرائیلی فوج میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، 14 اہلکار برطرف، قید کی سزا عراق سے مضبوط تعلقات کے خواہاں، فضائی حملوں میں ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا: سعودی عرب امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کینیا میں 15 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک، کیڑے مار ادویات سے آلودہ ٹماٹر کھانے کا شبہ وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم، فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

بھارتی چیف جسٹس کےمتنازع تبصرےپر“کاکروچ جنتا پارٹی” کےنام پرسیاسی مہم کا آغاز

Web Desk

22 May 2026

بھارت میں ایک 30 سالہ نوجوان طالب علم نے عدلیہ کی جانب سے دیے گئے ایک مبینہ طعنے کو ایک منفرد اور مقبولِ عام سیاسی شناخت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نامی طالب علم کی جانب سے شروع کی گئی “کاکروچ جنتا پارٹی” (Cockroach Janta Party) نامی غیر رسمی تحریک اس وقت بھارتی سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر رہی ہے اور چند ہی دنوں میں اس نے لاکھوں نوجوانوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس انوکھی اور احتجاجی تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض چند روز میں اس کے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر فالوورز کی تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس تحریک کی ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زائد نوجوان باقاعدہ طور پر ممبر کے طور پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

اس پوری تحریک کا پسِ منظر بھارتی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار کے ایک مبینہ تبصرے سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) نے سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران سوشل میڈیا پر سرگرم اور حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے تھے۔

چیف جسٹس نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ:

“کچھ بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ (لال بیگ) اور ’پیرا سائٹ‘ (طفیلئے) کی طرح پورے نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف سرگرم کارکن بن جاتے ہیں۔”

اگرچہ بعد میں پیدا ہونے والے شدید تنازع اور نوجوانوں کے ملک گیر احتجاج کے بعد چیف جسٹس نے یوٹرن لیتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا یہ بیان تمام نوجوانوں کے لیے نہیں تھا، لیکن تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔