LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی

چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم

Web Desk

26 May 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی بے مثال ترقی اور عالمی اقتصادی و عسکری اثر و رسوخ کو دنیا کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی طاقت کے لحاظ سے موجودہ دور میں چین کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان سخت محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے ملکی ترقی کے لیے چینی طرز کے معاشی ماڈل کی پیروی کرے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر منعقدہ ایک خصوصی اور پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چینی نائب صدر ہین ژینگ نے خصوصی شرکت کی اور دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کی خوشی میں یادگاری کیک بھی کاٹا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ کی بصیرت انگیز قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا “صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین نے کروڑوں افراد کو غربت کے اندھیروں سے نکالا۔ خطے اور دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے چین کی کوششیں انتہائی قابلِ تحسین ہیں اور چینی صدر ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔”

وزیراعظم نے چین کی جانب سے ماضی میں، بالخصوص 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی کی جانے والی بھرپور اور بروقت امداد پر چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

پاک چین تعلقات کی تاریخی گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے عظیم رہنماؤں نے اس لازوال دوستی کو انتہائی عزم، خلوص اور لگن سے استوار کیا ہے، جس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے گہرے تزویراتی تعلقات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا:

“آج ہم محض دو جسم نہیں بلکہ ایک روح اور ایک دل کی مانند ہیں، جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاک چین دوستی کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اس نے تاریخ کے ہر طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور ہمیشہ محبت کا سایہ اور ثمرات دیے ہیں۔”

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی سب سے طاقتور عسکری اور معاشی قوتوں میں شامل ہونے کے باوجود چین کا فلسفہ ہمیشہ امن اور شراکت داری پر مبنی رہا ہے، جو صدر شی جن پنگ کو اس دور کا سب سے قابلِ احترام رہنما بناتا ہے۔

انہوں نے پاکستانی عوام اور اداروں پر زور دیا کہ وہ چین کے اس عظیم ترقیاتی سفر سے سبق حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا طویل ترین سفر بھی پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے، اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان بہت جلد چینی طرزِ حکومت اور معاشی ماڈل کے چھوٹے روپ کو اپنے ملک میں نافذ کرنے کے اہداف حاصل کر لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس دوستی کے درخت میں نئی شاخیں پیدا کریں تاکہ یہ رشتہ مزید مضبوط ہو سکے۔