LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا

Web Desk

25 May 2026

امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بیک ڈور ڈپلومیسی اور پیشرفت تیزی سے جاری ہے، تاہم اس اہم ترین اسٹریٹجک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور باقاعدہ اعلان میں ابھی مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت انہی مذاکرات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این (CNN) نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اس ممکنہ معاہدے کے اہم ترین مندرجات اور چیلنجز کی تفصیلات جاری کی ہیں:خطے میں فوری جنگ بندی، عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ ترسیل کی بحالی اور ایران کا متنازع جوہری پروگرام ان مذاکرات کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔ یہ مفاہمتی یادداشت تہران کو اس کے جوہری پروگرام کو محدود اور ریگولیٹ کرنے سے متعلق ایک نیا اور جامع قانونی فریم ورک فراہم کرے گی۔ حتمی دستخطوں سے قبل دونوں ممالک کے سفارت کاروں اور قانونی ماہرین کے مابین دستاویز میں شامل مخصوص الفاظ، باریک نکات اور سخت شرائط پر تاحال گہرائی سے تبادلہ خیال جاری ہے۔ معاہدے کا حتمی دارومدار اس بات پر ہے کہ ایرانی حکام درکار دستاویزات کو کتنی جلدی تیار اور فائنل کرتے ہیں۔

دوسری جانب، ایک اور بڑے امریکی معتبر نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز (CBS News) نے انکشاف کیا ہے کہ اس انتہائی اہم معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں حائل حالیہ تاخیر کی اصل وجہ تہران میں مواصلاتی اور سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر اس وقت انتہائی سخت سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں، جہاں ان تک براہِ راست رسائی یا محفوظ مواصلاتی رابطہ قائم کرنا ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت اور بااثر حلقوں کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای تک حساس سفارتی پیغامات اور معاہدے کی دستاویزات پہنچانے اور وہاں سے حتمی منظوری واپس لانے کے اسی پیچیدہ عمل میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن میں حتمی دستخطوں کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام تر مواصلاتی اور تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود دونوں اطراف سے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اور اگر اگلے چند روز میں الفاظ کی جنگ ختم ہو گئی تو یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی امن اور عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام کا باعث بنے گا۔