LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

وزیراعظم 4 روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، اہم معاہدوں پر دستخط اور اعلیٰ سطح ملاقاتیں طے

Web Desk

23 May 2026

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے 4 روزہ اہم اور اسٹریٹجک دورۂ چین کے پہلے مرحلے میں چینی شہر ہانگژو (Hangzhou) پہنچ گئے ہیں۔ شیاؤ شین بین الاقوامی ائیرپورٹ ہانگژو پہنچنے پر ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ اور پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے وزیرِ اعظم اور ان کے وفد کا گرمجوشی سے شاندار استقبال کیا۔

وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و معاشی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

دورے مصروفیات اور اہم ملاقاتیں

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اس اہم ترین دورے کے ایجنڈے میں درج ذیل مصروفیات شامل ہیں:

  • صوبائی قیادت سے ملاقات: ہانگژو میں قیام کے دوران وزیرِ اعظم کی ژجیانگ صوبے کے بااثر پارٹی سیکریٹری وانگ ہاؤ سے اہم ملاقات ہوگی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر گفتگو کی جائے گی۔

  • پاک چین بزنس فورم: وزیرِ اعظم چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے (CPEC Phase-2) کے تحت پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے مابین تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے منعقدہ ایک بڑے بزنس فورم میں خصوصی شرکت کریں گے۔

  • صنعتی و کاروباری ملاقاتیں: دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی چین کی معروف اور عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEOs) سے اہم ترین ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

تجارتی معاہدے اور علی بابا ہیڈکوارٹر کا دورہ

اس دورے کا ایک اہم ترین پہلو ڈیجیٹل اکانومی اور ای-کامرس میں تعاون بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف چین کے مشہورِ زمانہ ٹیکنالوجی اور ای-کامرس جائنٹ علی بابا (Alibaba) کے عالمی ہیڈکوارٹر کا خصوصی دورہ بھی کریں گے۔

علی بابا ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارتی و تکنیکی تعاون کی مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔ معاشی حلقوں کے مطابق، ان جدید کاروباری معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے سے پاکستان اور چین کے مابین روایتی سیکیورٹی تعلقات کے ساتھ ساتھ جدید تجارتی، ڈیجیٹل اور معاشی روابط کو مزید استحکام اور نئی بلندی ملے گی۔