LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

امریکہ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کر دیا گیا

Web Desk

23 May 2026

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں مستقل رہائش (گرین کارڈ) حاصل کرنے کے قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک نئی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت اب زیادہ تر درخواست گزاروں کو امریکا کے اندر رہ کر اسٹیٹس تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ انہیں اپنے ملک واپس جا کر ہی اپلائی کرنا ہوگا۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، مستقل رہائش کے خواہش مند غیر ملکی شہریوں کو اب عمومی طور پر امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعے ملک سے باہر ہی سے اس عمل کا آغاز کرنا ہوگا۔ یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان زیک کاہلر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکا میں عارضی طور پر مقیم ایسے غیر ملکی جو گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، انہیں اپنے وطن واپس جا کر ہی قانونی کارروائی مکمل کرنا ہوگی، اور صرف انتہائی غیر معمولی یا ہنگامی صورتحال میں ہی امریکا کے اندر رہتے ہوئے ‘ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس’ کی درخواست قبول کی جائے گی۔ اس نئی گائیڈ لائن سے امریکا میں موجود ہزاروں نان-امیگرینٹس براہِ راست متاثر ہوں گے، جن میں خاص طور پر بین الاقوامی طلبہ (انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس)، عارضی ورکرز اور سیاح شامل ہیں۔