LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ

بھارتی چیف جسٹس کےمتنازع تبصرےپر“کاکروچ جنتا پارٹی” کےنام پرسیاسی مہم کا آغاز

Web Desk

22 May 2026

بھارت میں ایک 30 سالہ نوجوان طالب علم نے عدلیہ کی جانب سے دیے گئے ایک مبینہ طعنے کو ایک منفرد اور مقبولِ عام سیاسی شناخت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نامی طالب علم کی جانب سے شروع کی گئی “کاکروچ جنتا پارٹی” (Cockroach Janta Party) نامی غیر رسمی تحریک اس وقت بھارتی سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر رہی ہے اور چند ہی دنوں میں اس نے لاکھوں نوجوانوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس انوکھی اور احتجاجی تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض چند روز میں اس کے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر فالوورز کی تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس تحریک کی ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زائد نوجوان باقاعدہ طور پر ممبر کے طور پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

اس پوری تحریک کا پسِ منظر بھارتی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار کے ایک مبینہ تبصرے سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) نے سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران سوشل میڈیا پر سرگرم اور حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے تھے۔

چیف جسٹس نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ:

“کچھ بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ (لال بیگ) اور ’پیرا سائٹ‘ (طفیلئے) کی طرح پورے نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف سرگرم کارکن بن جاتے ہیں۔”

اگرچہ بعد میں پیدا ہونے والے شدید تنازع اور نوجوانوں کے ملک گیر احتجاج کے بعد چیف جسٹس نے یوٹرن لیتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا یہ بیان تمام نوجوانوں کے لیے نہیں تھا، لیکن تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔