ریئلٹی شو یا خطرناک تجربہ؟ ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ پر جنسی تشدد کے الزامات نے تہلکہ مچا دیا
Web Desk
22 May 2026
برطانیہ کا انتہائی مقبول اور ہائی ریٹنگ ریئلٹی ٹی وی شو ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ (Married at First Sight) اس وقت دنیا بھر میں شدید ترین تنازع، بدنامی اور اخلاقی بحران کی زد میں آ گیا ہے۔ شو میں حصہ لینے والی سابق خواتین شرکاء نے پروڈکشن ہاؤس اور اپنے نام نہاد شوہروں پر دورانِ شو جنسی زیادتی (ریپ)، شدید جسمانی تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں جیسے سنگین اور ہولناک الزامات عائد کر دیے ہیں۔ ان ہوش ربا انکشافات کے بعد برطانوی میڈیا سمیت عالمی سطح پر ریئلٹی ٹی وی انڈسٹری کے طریقہ کار پر ایک نئی اور سنجیدہ بحث چھڑ گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ شو ایک انتہائی منفرد لیکن شروع ہی سے متنازع تصور (Concept) کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ شو میں مکمل طور پر اجنبی مرد اور خواتین کو پہلی بار براہِ راست شادی کے منڈپ پر ملوایا جاتا ہے اور قانوناً یا رسماً ان کی شادی کروا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد پروڈکشن ٹیم کی جانب سے ان سے زبردستی ازدواجی زندگی گزارنے اور تعلقات قائم کرنے کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ کسی بھی باہمی اختلاف، لڑائی یا جنسی تعلق سے انکار کی صورت میں ماہرین کا ایک پینل کیمروں کے سامنے بلا کر ان سے جرح اور تذلیل آمیز سوالات کرتا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس وقت پوری دنیا کے سامنے آیا جب برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کی ایک نئی اور تہلکہ خیز دستاویزی رپورٹ ’’دی ڈارک سائیڈ آف میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘‘ (The Dark Side of Married at First Sight) منظرِ عام پر آئی۔ اس رپورٹ میں شو کا حصہ رہنے والی تین سابق خواتین شرکاء نے کیمرے کے سامنے آ کر انکشاف کیا کہ شو کے دوران ان کے اسکرین پارٹنرز (شوہروں) نے ان کا ریپ کیا اور وہ مسلسل جنسی زیادتی کا شکار ہوتی رہیں۔
متاثرہ خواتین میں سے ایک نے روتے ہوئے ہولناک تفصیلات بتائیں کہ:
“شو کے ‘ہنی مون’ مرحلے کے دوران ہی میرے شوہر کا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھے شدید جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جب میں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اس شخص نے مجھے ہولناک دھمکی دی کہ اگر میں نے پروڈکشن ٹیم یا کسی بھی چوتھے بندے کو کچھ بتایا، تو وہ مجھ پر ‘تیزاب سے حملہ’ (Acid Attack) کروا کے میرا چہرہ اور زندگی تباہ کر دے گا۔”
سب سے زیادہ افسوسناک اور چونکا دینے والا انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے اس تمام پرتشدد صورتحال، ریپ اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیوں کے بارے میں شو کی پروڈکشن کمپنی کو فوری طور پر تحریری و زبانی آگاہ کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود، پروڈکشن ہاؤس نے ٹی وی ریٹنگز اور پیسوں کی ہوس میں نہ صرف شو کی ریکارڈنگ کو زبردستی جاری رکھا بلکہ ان تمام مظالم سے لیس قسطوں کو ٹی وی پر نشر بھی کر دیا۔
بی بی سی کی اس دستاویزی رپورٹ نے ریئلٹی ٹی وی انڈسٹری کے پسِ پردہ چھپے مکروہ چہرے، گندے ماحول، اسکرین پر ڈراما پیدا کرنے کے لیے شرکاء پر ڈالے جانے والے ذہنی دباؤ اور ٹی آر پی (TRP) کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے جیسے گھناؤنے اقدامات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس وقت دنیا بھر کے صارفین کی جانب سے شو کی پروڈکشن ٹیم کی گرفتاری اور شو پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ تفریح اور گلیمر کے نام پر بنائے جانے والے ایسے سستے اور غیر اخلاقی پروگراموں میں انسانوں کی ذہنی و جسمانی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح ملنی چاہیے، نہ کہ کسی کمپنی کے منافع کو۔
متعلقہ عنوانات
بھارتی پلے بیک گلوکار جوبین نوٹیال کے ہاں بیٹےکی پیدائش
29 September 2026
عاطف اسلم کو جرمنی میں برلن بڈی بیئر سے نواز دیا گیا
29 September 2026
سلمان خان کا جعلی اے آئی ویڈیوز بنانے والوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ
29 September 2026
1 سال تک میں بینائی سے محروم رہا: حسن شہریار
28 September 2026
ٹیلر سوئفٹ سب سے زیادہ وی ایم اے ایوارڈز جیتنے والی فنکارہ بن گئیں
28 September 2026
جو گھر پہلے ہی ٹوٹ گیا ہو اسے کوئی نہیں توڑ سکتا، گووندا کی گرل فرینڈ کا انکی اہلیہ کے بیان پر ردعمل
28 September 2026
پاکستان کا نام روشن کرنے والی ڈیزائنر سے انٹرویو میں جم کے کپڑوں پر سوال، نادیہ خان تنقید کی زد میں
27 September 2026
ایک دن میں ایک کروڑ خرچ، ڈکی بھائی اور عروب جتوئی کو تنقید کا سامنا
27 September 2026