LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایئرچیف کی ترک ہم منصب سے ملاقات، تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا کل سے چین کا 4 روزہ اہم سرکاری دورہ اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا کی گلگت آمد، ایئرپورٹ پر شایانِ شان استقبال مناسکِ حج سے قبل مکہ مکرمہ میں آخری نمازِ جمعہ، 15 لاکھ سے زائد عازمین کی مسجد الحرام میں حاضری بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں: وزیراعظم سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قرار امریکا کی پاکستان ریلوے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی یقین دہانی پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ بجلی بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ فیفا ورلڈ کپ 2026™؛ نیویارک کے شہریوں کے لیے صرف 50 ڈالرز میں میچ ٹکٹ اور مفت بس سروس کا اعلان، یورپ اور ایشیا کو ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا خطرہ تھا، برطانوی خبر ایجنسی غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا گرین زون میں آغاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ آج رات نہیں ہوگا: عرب میڈیا ملک بھر میں ایل این جی مہنگی، اوگرا نے قیمتوں میں 28 فیصد اضافہ کر دیا

قومی اسمبلی کا اجلاس؛ جبری برطرفیوں پر صحافیوں کا پریس گیلری سے واک آؤٹ،

Web Desk

22 May 2026

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران صحافیوں کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور بڑھتی ہوئی ملک گیر مہنگائی کے معاملات گونج اٹھے۔ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی پریس گیلری سے صحافیوں اور رپورٹرز نے اپنی مانگوں کے حق میں ایک مرتبہ پھر علامتی واک آؤٹ کیا۔

اجلاس میں اراکینِ اسمبلی نے نقطۂ اعتراض پر ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان سنجیدہ مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کروائی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے صحافیوں کے واک آؤٹ پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انہیں ملازمتوں سے برخاست کرنے کے عمل کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اصرار کیا:

“یہ ایک انتہائی سنگین اور درپیش مسئلہ ہے۔ ماضی میں رپورٹرز کی تھوڑی حوصلہ افزائی کی گئی تھی لیکن متعلقہ وزارت اپنے کیے گئے اعلانات سے پیچھے ہٹ گئی۔ حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحافی بھی عام محنت کش اور مزدوروں کی طرح ہیں، ان کا معاشی استحصال بند ہونا چاہیے۔”

اس پر حکومتی بینچوں کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے ایوان اور صحافیوں کو یقین دہانی کروائی کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اس حوالے سے خود بہت فعال ہیں اور صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔دوسری جانب، اپوزیشن کے رکنِ قومی اسمبلی شبیر علی قریشی نے ملک کی معاشی صورتحال اور مہنگائی پر حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بے لگام مہنگائی کی وجہ سے پاکستان کا ہر عام شہری اس وقت شدید ذہنی و معاشی کرب میں مبتلا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے، پیٹرول کی قیمتیں 400 روپے سے اوپر چلی گئی ہیں جس کے باعث غریب اور سفید پوش لوگ اب اپنے بچوں کے بجلی کے بل جمع کرانے اور اسکولوں کی فیسیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پریس اور عوام دونوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔